نئی دلی:
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی متنازع خارجہ پالیسی اورمشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر خاموشی نے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مودی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں نااہل قرار دیا ہے۔بھارتی میڈیاکے مطابق راہل گاندھی نے کہا کہ بھارتی خارجہ پالیسی اب قومی مفادات کے بجائے مودی کی ذاتی پسند و ناپسند کا کھلونا بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کے وقار کو بری طرح مجروح کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی قیادت بھارتی وزیر اعظم کو اپنے اشاروں پر نچا رہی ہے جس سے ملک کی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرمودی جی کا اپنا کردار کمپرومائزڈ ہو تو پھر ملکی خارجہ پالیسی کبھی بھی آزادانہ نہیں ہو سکتی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نریندر مودی اب بھارت کے وسیع تر قومی مفاد کی پروا کرنے کے بجائے صرف امریکا اور اسرائیل کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ یہ طرز عمل بھارت کو عالمی سطح پر ایک تنہا اور کمزور ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کی جانب سے مودی کو کمپرومائزڈ قرار دینا انتہائی تشویشناک ہے جو حکومتی پالیسیوں کے بیرونی دبائو میں ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ بھارت کی نام نہاد خود مختار خارجہ پالیسی اب درحقیقت بیرونی قوتوں کے تابع ہو کر رہ گئی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی معیشت کا بہت بڑا انحصار خلیجی ممالک پر قائم ہے، لیکن مودی نے اپنے سیاسی مفادات کے لیے ایران مخالف اسرائیلی اتحاد کا حصہ بن کر عوامی مفاد کو مکمل طور پر پس پشت ڈال دیا ہے جو مستقبل میں مزید بحران پیدا کرے گا۔اس صورتحال نے بھارت کے اندرونی سیاسی ماحول میں بھی ہلچل پیدا کردی ہے جہاں اپوزیشن جماعتیں حکومتی خارجہ پالیسی کو ملکی وقار کے منافی قرار دے رہی ہیں۔بھارتی حکومت کو اب داخلی و خارجی محاذوں پر سخت چیلنجز کا سامنا ہے جو اس کی ساکھ کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔