سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں متحدہ مجلس علما نے نیشنل کانفرنس کے ایم ایل اے اور سابق جج حسنین مسعودی کے شراب کی فروخت سے متعلق بیان پر شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
متحدہ مجلس علما کے ترجمان نے کشمیر اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران حسنین مسعودی کے اس بیان پر کڑی تنقید کی ، جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں شراب کی فروخت کو مقبوضہ علاقے کے لیے آمدنی کا ذریعہ قرار دیاتھا۔انہوں نے اس موقف کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام میں نشہ آور اشیا کی واضح ممانعت موجود ہے اور اس نوعیت کے بیانات اسلامی اقدار اور عقائد کے سراسر منافی ہیں۔ شراب نوشی کے سنگین سماجی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جن میں گھریلو مسائل، معاشی تنگی اور اخلاقی زوال شامل ہیں۔ ترجمان نے اس امر پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ایک ایسی سیاسی جماعت کی جانب سے، جو کشمیر کی تہذیب، ثقافت اور شناخت کے تحفظ کی دعویدار ہے، اس طرح کے بیانات سامنے آنا نہایت مایوس کن اور تشویشناک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ معاشی مفادات کو اخلاقی، سماجی اور انسانی فلاح و بہبود پر فوقیت نہیں دی جا سکتی، اور آمدنی کے نام پر شراب کو جائز قرار دینا طرز حکمرانی میں ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ شراب کو ایک سنگین سماجی برائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشرے کے اخلاقی اور سماجی ڈھانچے کو بتدریج کمزور کرتی ہے۔متحدہ مجلس علما نے حکمران جماعت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنی پالیسی واضح کرے اور جموں و کشمیر میں شراب پر مکمل پابندی عائد کرنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔ ساتھ ہی شراب کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا گیا تاکہ معاشرے اور خطے کے مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔