مظفر آباد: آزاد جموں کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں کل جماعتی حریت کانفرنس، کشمیر لبریشن سیل اور مہاجرین نمائندہ فورم کے باہمی اشتراک سے بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی خصوصی عدالت کے متنازعہ اور غیر منصفانہ فیصلے کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں خواتین کی بھرپور اور نمایاں شرکت نے اسے غیر معمولی اہمیت بخش دی جبکہ مردوں کی بڑی تعداد بھی اس احتجاج میں شریک ہو کر یکجہتی کا اظہار کرتی رہی۔
احتجاجی ریلی کی قیادت کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی، سیکریٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، سینئر حریت رہنما محمود احمد ساگر، شیخ عبدالماجد، ذاہد اشرف، ذاہد صفی، مشتاق الاسلام، عبدالمجید میر اور مہاجرین نمائندہ فورم کے مرکزی رہنما غلام حسن بٹ ،امیر جماعت اسلامی ضلع مظفر آباد انجینئر عبداالحمید ، ایڈوکیٹ عبد الصمد، مسلم کانفرنس کے یاسر نقوی، یونائیٹڈ موومنٹ کے ڈاکٹر منظور، غلام اللہ اور شفقت حسین نے کی۔ یہ احتجاج حریت کانفرنس کی خواتین رہنماوں آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو سنائی گئی عمر قید کی سزاوں کے خلاف تھا ۔ ریلی کے شرکا نے سزا لویکسر مسترد کرتے ہوئے اسے انصاف کے تقاضوں کے منافی قرار دیا۔
ریلی برہان وانی شہید چوک سے شروع ہو کر علمدار چوک گڑھی پن پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکانے بینراور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارتی مظالم کے خلاف اور کشمیری قیادت کے حق میں نعرے درج تھے۔ فضا بھارتی عدالت کے فیصلے “نامنظور، نامنظور” کے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔
مقررین نے اپنی تقاریر میں بھارتی عدالت کے فیصلے کو انصاف کا قتل، بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی اور کشمیری عوام کی جائز جدوجہدِ آزادی کو دبانے کی ناکام اور مذموم کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو عمر قید کی سزائیں دینا درحقیقت کشمیری عوام کی آواز کو خاموش کرنے کی بے سود کوشش ہے۔ مقررین نے کہا کہ بھارت ایک طرف خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے جبکہ دوسری طرف مقبوضہ جموں کشمیر میں سیاسی کارکنوں، بالخصوص خواتین کے خلاف انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے حریت قیادت کو مرعوب نہیں کر سکتا اور کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔سیکریٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے کہا کہ یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے مسلمہ اصولوں کے صریح منافی ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت عدالتی نظام کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کررہا ہے۔ سابق کنوینئر محمود احمد ساگر نے کہا کہ کشمیری خواتین نے تحریکِ آزادی میں ہمیشہ جرات، عزم اور استقامت کی روشن مثالیں قائم کی ہیں اور اس نوعیت کے اقدامات ان کے حوصلے ہرگز پست نہیں کر سکتے۔ شوکت جاوید میر نے حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ کشمیری عوام کی آواز ہر سطح پر موثر انداز میں اٹھائی جاتی رہے گی۔ سمعیہ ساجد نے کہا کہ کشمیری خواتین تحریکِ آزادی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ غلام حسن بٹ نے اس فیصلے کو کشمیری عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔
پیپلز پارٹی کی رہنما شگفتہ نورین اور مہاجر خواتین کی نمائندہ شاہینہ مقصود نے بھی کشمیری خواتین کی جرات و استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لے۔
مقررین نے اقوام متحدہ، عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر دباو ڈالیں کہ وہ کشمیری رہنماوں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرے اور آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت تمام حریت رہنماوں کو فوری طور پر رہا کرے۔