اسلام آباد: سیاسی تجزیہ کاروں نے بھارت میں اسرائیلی سفیر روئین آزر Roeeven Azarکے ایک حالیہ انٹرویو کو مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو غلط انداز میں پیش کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارتی صحافی ارنب گوسوامی کے ساتھ آزر کا انٹرویو متعدد مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ترتیب دیا گیا تھا جس میں پاکستان سعودی عرب تعلقات کو خراب کرنا، پاکستان کو علاقائی تنازعات میں کھینچنے کی کوشش کرنا، پاکستان کے جوہری پروگرام کو کے حوالے سے غلط تصور پھیلانااور پاکستان کو ایک علاقائی خطرہ کے طور پر پیش کرنا شامل تھا۔
تجزیہ کار کہتے ہیں یہ انٹریو بنیادی طور پر پاکستان کے خلاف بھارت اوراسرائیل کے مشتریہ مذموم مقاصد کا پتہ دیتاہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سفیر پاکستان کیخلاف بار بار ہرزہ سرائی کرتا رہا اور ” بدمعاش ریاست” کا لفظ استعمال کر کے اسے نشانہ بناتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ انٹرویو نئی دہلی اور تل ابیب کی جانب سے پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر سفارتی دباو ڈالنے کی وسیع حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے متعدد مواقع پر واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے ساتھ اس کے تعلقات تاریخی بھائی چارے، مذہبی وابستگی اور دہائیوں پر محیط دفاعی اور اقتصادی شراکت داری پر استوار ہیں جن میں اسٹریٹجک ملٹری ڈیفنس معاہدہ بھی شامل ہے۔
پاکستان نے مسلسل انصاف اور بین الاقوامی قانون کی حمایت کی ہے، خاص طور پر فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے جب کہ اسرائیل طویل عرصے سے بھارت کی مدد کر رہا ہے۔ گزشتہ برس مئی میں ہونے والی پاک بھارت لڑائی میں بھی اسرائیل بھارت کی مدد میں پیش پیش رہا۔
تجزیہ کاروں نے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت صرف اور صرف اپنے دفاع کے لیے حاصل کر رکھی ہے اور اس حوالے سے بھی پہل بھارت نے کی کیونکہ پہلے اسی نے ایٹمی تجربات کیے جس کے جواب میں پاکستان کو بھی ایسا کرنا پڑا۔