سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن انجینئر عبدالرشید نے علاقے میں زراعت اور باغبانی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کی وجہ سے کشمیریوں کی پھلوں کی صنعت ،زعفران اور اخروٹ وغیرہ تباہ وبرباد ہو جائیں گے۔ نئی دلی کی تہاڑی جیل میں نظر بند انجینئر رشید نے مقامی پیداوار پر بین الاقوامی تجارتی انتظامات کے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پھلوں کے نرخ دہلی کے تاجر طے کرتے ہیں، کشمیریوں کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔انجینئر رشیدنے بھارتی پارلیمنٹ میں تقریر کے دوران کہا کہ مقبوضہ علاقے میں زعفران کی پیداوار دن بہ دن کم ہو رہی ہے، جو کیڑے مار ادویات فراہم کی جا رہی ہیں وہ غیر معیاری ہیں۔ انہوںنے آبپاشی کی ناکافی سہولیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مناسب انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی کسانوں کو روایتی زراعت کو ترک کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی کی مناسب سہولتیں نہیں ہیں جس کی وجہ سے زرعی زمین سکڑ رہی ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں ضلع بارہمولہ کے علاقے پٹن برن میں کاشتکاروں کی سینکڑوں ایکڑ اراضی چھین لی گئی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں لوگوں کی روزی روٹی ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے زمین کے حقوق کے تحفظ کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ براہ کرم جموں و کشمیر کی زمین کو تحفظ فراہم کریں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ زراعت اور باغبانی جموں و کشمیر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ انجینئر رشید نے خبردار کیا کہ ان شعبوں کو مسلسل نظر انداز کرنے سے خطے کے لیے سنگین سماجی و اقتصادی نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔