جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں جموں یونیورسٹی کی قائم کردہ ایک کمیٹی نے ایم اے پولیٹیکل سائنس کے نصاب سے محمد علی جناح، سر سید احمد خان اور علامہ اقبال سے متعلق مضامین کو ہٹانے کی سفارش کی ہے۔
یہ فیصلہ بی جے پی کی طلباءونگ” اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد“ (اے بی وی پی) کی جانب سے نظرثانی شدہ نصاب میں جناح کو شامل کیے جانے کے خلاف احتجاج کے بعد کیا گیا ہے۔جموں یونیورسٹی کی ڈیپارٹمنٹل افیئر کمیٹی (DAC) نے متفقہ طور پر ایک سال اور دو سالہ پوسٹ گریجویٹ پروگراموں کے کورس سے محمد علی جناح، سر سید احمد خان اور علامہ اقبال سے متعلق مضامین کو ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ سفارش کو غور کے لیے بورڈ آف اسٹڈیز (BoS) کو بھیج دیا گیا ہے جسکا اجلاس 24 مارچ کو ہوگا۔یہ تجویز اب بورڈ آف اسٹڈیز کے پاس ہے جو 24 مارچ کو حتمی فیصلہ کرے گا۔ اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔کشمیری مسلمانوں نے اس فیصلے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کا علیحدہ وطن کا مطالبہ جائز تھا ج،اس کی جڑیں دو قومی نظریہ میں موجود تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ ہندو اور مسلمان متضاد ثقافتوں، روایات اور طرز زندگی کے ساتھ الگ الگ قومیں ہیں۔ یہ نقطہ نظر انڈین نیشنل کانگریس کے تعصبات اور تنگ نظری سے تشکیل پایا جو بھارت میں مسلمانوں کو پسماندگی میں دھکیلنا چاہتی تھی۔