اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل تک جنوبی ایشیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا:حریت کانفرنس

 

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں دنیا کی بڑی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو حل کرانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کریں جو علاقائی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور وہ بھارت کے ناجائز تسلط سے آزادی حاصل کرکے رہیں گے۔ کشمیری عوام کے لیے واحد قابل قبول حل حق خودارادیت ہے جس سے بھارت گزشتہ 78 سال سے انکار کر رہا ہے۔ایڈوکیٹ منہاس نے کہا کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمی ادارے کی قراردادوں پر عملدرآمد اور کشمیریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر میں غیر جانبدارانہ استصواب رائے کا انعقاد ہی واحد منصفانہ حل ہے اور اس کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ حریت ترجمان نے خبردار کیا کہ کشمیری تقریباً 8 دہائیوں سے بھارتی مظالم برداشت کررہے ہیں اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس تنازعے کو حل کرنے میں ناکامی سے پوری دنیا کے امن کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی ادارے سے اپیل کی کہ وہ اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرے تاکہ کشمیری عوام اپنے سیاسی مستقبل کا خود تعین کر سکیں۔ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈیموگرافک انجینئرنگ اور دفعہ370 کی منسوخی سمیت بھارت کی پالیسیوں کا مقصد کشمیریوں کی شناخت مٹانا اور حق خود ارادیت کے لئے ان کی جدوجہد کو کمزور کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلم اکثریت کو منظم طریقے سے اقلیت میں تبدیل کرنے، ہندوتوا نظریے کے مطابق خطے کی تشکیل نواور علاقے کو مکمل طورپر بھارت میں ضم کرنے کے لیے نوآبادیاتی اقدامات کررہیہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کے لیے خطے کی منفرد شناخت کا تحفظ تحریک آزادی کو جاری رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

جدید تر اس سے پرانی