ایران پر امریکی، اسرائیلی جارحیت عالمی نظام کو ہلا کر رکھ سکتی ہے: مسعود خان

 

اسلام آباد: آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور سابق سفیر سردار مسعود خان نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر جاری امریکی اسرائیلی جارحیت مسلم دنیا اور عالمی سیاسی نظام کے لیے دور رس نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق انہوں نے ایک ٹیلی ویڑن تجزیہ میں کہا کہ اس بات سے قطع نظر کہ تنازعہ بالآخر کیسے اختتام پذیر ہوتا ہے، امت مسلمہ کو اہم تزویراتی اور معاشی نقصانات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کشیدگی نے خلیجی خطے کو پہلے ہی غیر مستحکم کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس لڑائی نے کئی خلیجی ریاستوں کو ابھرتے ہوئے بحران کی طرف دھکیل دیا ہے اور یوں یہ تنازعہ مقامی تصادم سے ایک وسیع علاقائی سلامتی کے چیلنج میں تبدیل ہو گیا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ طویل جنگ معاشی عدم استحکام کومزید گہرا کر سکتی ہے اور دنیا بھر کی منڈیاں متاثر ہونگی۔
مسعود خان نے نشاندہی کی کہ صدر، نائب صدر اور سیکرٹری دفاع سمیت سینئر امریکی حکام کے بیانات میں ابہام اور تضاد پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا اس کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا، حکومت کی تبدیلی کو نافذ کرنا، اس کی میزائل صلاحیتوں کو کمزور کرنا یا خطے کے تزویراتی توازن کو از سر نو تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وضاحت کی اس کمی نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی الجھن پیدا کر دی ہے۔
مسعود احمدخان نے کہا کہ امریکہ کے اندر عوامی رائے تنازعہ پر تیزی سے منقسم دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ کچھ سیاسی حلقوں نے ابتدائی طور پر ایران پر جارحیت کی حمایت کی تھی تاہم اب تنقید بڑھ رہی ہے ۔

جدید تر اس سے پرانی