سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دلی کے مسلط کر دہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے آج کرفیوجیسی پابندیوں کا سلسلہ مزیدتیز کر دیا ہے ۔ ایران پر اسرائیلی اور امریکی جارحیت کے خلاف مظاہرو ں کو روکنے کیلئے مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 5روز سے پابندیاں نافذ ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے قتل اور اسرائیلی ، امریکی جارحیت اور مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں پابندیوں کے خلاف آج نماز جمعہ کے بعد پر امن مظاہروں کی کال دے رکھی ہے۔ انتظامیہ نے مظاہرے روکنے کیلئے سری نگر، بارہمولہ، بانڈی پورہ، بڈگام، پلوامہ اور وادی کشمیر کے دیگر اضلاع میں بھارتی فوج اور پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کردی ہے۔ اہم سڑکیں اورچوراہے خار دارتاروں سے سیل کر د یے گئے ہیں۔ بھارتی فورسز اہلکاروں نے سری نگر کے تجارتی مرکز لال چوک کو پوری طرح سے گھیرے میں لیکر اسے نو گو زوں میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہ پابندیاں پیر کے روز اس وقت عائد کی گئی تھیں جب ایران پر جارحیت اور خامنہ ای قتل کے خلاف پورے مقبوضہ علاقے میں لوگ مظاہروں کیلئے سڑکوںپر آگئے تھے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق بھارتی پولیس نے مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں اب تک 8سو سے زائد کشمیری نوجوان گرفتار کر لیے ہیںجن میں درجنوں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
انتظامیہ نے کل ہفتے تک مقبوضہ علاقے میں تعلیمی ادارے بھی بند رکھنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے ۔ موبائل انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں کشمیریوں پر زور دیا کہ وہ ایران پر جارحیت، مودی اور نیتن یاہو کے مسلم دشمن ایجڈے او مقبوضہ علاقے میں نافذ پابندیوں کے خلاف آج نماز جمعہ کے بعد بھر پور احتجاج کریں۔