سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کی ایک عدالت نے بھارتی فوج کی حراست میں لاپتہ ہونے والے ایک شخص کو لاپتہ ہونے کے تقریبا تین دہائیوں بعد قانونی طور پر مردہ قرار دے دیاہے۔
سرینگر کی ایک عدالت نے عبدالرشید وانی کو 1997میں بھارتی فوج کے اہلکاروں کی حراست میں لاپتہ ہونے کے تقریبا 28 سال بعد قانونی طور پر مردہ قرار دیاہے، جس سے طویل عرصے سے زیر التوادوران حراست گمشدگی کا مقدمہ ۔ مدینہ کالونی سرینگر کے رہائشی عبدالرشید وانی کوبھارتی فوج کیگورکھا رائفلز کے اہلکاروں نے 7جولائی 1997کو راولپورہ سرینگر سے ایک اور کشمیری فاروق احمد بٹ کے ہمراہ گرفتار کیا تھا،تاہم فاروق کو بعدازاں رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم عبدالرشیدوانی دوبارہ کبھی گھر واپس نہیں آیا نہ ہی اس کے اہلخانہ کو اس کے بارے میں کوئی معلومات مل سکیں ۔13صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں، اسپیشل موبائل مجسٹریٹ سرینگر، مسرت جبین نے پولیس کی رپورٹس اور عدالتی انکوائری کے نتائج نقل کرتے ہوئے کہاکہ دراصل ملزم میجر وی پی یادونے عبدالراشد وانی کو دوران حراست قتل کیا اور اس کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ نہ تو انتظامیہ اور نہ ہی سرینگر میونسپل کارپوریشن نے عبدالرشید کی رہائی کی تصدیق سے متعلق کوئی ریکارڈ پیش کیا۔عدالت نے عبدالرشیدوانی کی اہلیہ فریدہ شبنم اور بیٹوں جنید اور ارسلان سمیت دیگراہلخانہ کی طویل عرصے سے جاری تکالیف کا نوٹس لیا اوریہ قانونی اصول لاگو کیا کہ سات سال کی گمشدگی کے بعد کسی بھی شخص کو مردہ تصور کیا جا سکتا ہے۔
واضح ر ہے کہ 1989سے لے کر اب تک بھارتی قابض فوج، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں نے 8ہزارسے زائد کشمیریوں کو مبینہ طور پر گرفتارکرنے کے بعد حراست کے دوران لاپتہ کردیا ہے۔