بھارت میں اکثریتی سیاست کا دبائو: اقلیتی خواتین اور ریڑھی بانوں کو نشانہ بنایا جانے لگا

 

اسلام آباد:بھارت میں اکثریتی سیاست کے دبائوکے باعث اقلیتی خواتین اور ریڑھی بانوں(اسٹریٹ وینڈرز )کو مذہبی شناخت اور معاشی کمزوری کی بنیاد پرمنظم اخراج اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بھارت میں اسٹریٹ وینڈرز کی ایک بڑی تعداد خواتین پر مشتمل ہے، مگر غیر قانونی بے دخلی کی کارروائیوں کا سب سے زیادہ اثر انہی پر پڑتا ہے۔گزشتہ سال جون میں نیشنل ایسوسی ایشن آف اسٹریٹ وینڈرز آف انڈیاکی رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ دارلحکومت نئی دلی جیسے علاقوں میں بھی خواتین کی ہراسانی کاسلسل جاری ہے، جہاں حکام نے اسٹریٹ وینڈرز ایکٹ (2014) کے تحت قانونی تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے زبردستی سامان ضبط کیا اور اسٹال مسمار کیے۔بھارت میں اقلیتوں، خصوصا مسلم ریڑھی بانوں کو "لینڈ جہاد” یا "فرٹیلٹی جہاد” جیسے بیانیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ان بیانیوں کے نتیجے میں منظم معاشی بائیکاٹ سامنے آتے ہیں، جہاں مقامی لوگوں کو اقلیتی دکانداروں سے خریداری نہ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے یا انہیں زبردستی روکا جاتا ہے، جس سے خواتین وینڈرز کی آمدن ختم ہو جاتی ہے اور ان کے لیے جسمانی خطرات بڑھ جاتے ہیں۔بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح تقریبا 51شکایات فی گھنٹہ ہے،مگر غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والی خواتین اکثر انصاف حاصل کرنے کیلئے درکار سماجی وسائل سے محروم ہوتی ہیں۔اقلیتی خواتین کو اکثر پولیس کی مدد سے محروم رکھا جاتا ہے یا وہ شکایت درج کروانے کی کوشش پر مزید دھمکیوں کا سامنا کرتی ہیں، خاص طور پر مقامی شدت پسند گروہوں کی جانب سے۔سائوتھ ایشیا جسٹس کمپین2025کی رپورٹس کے مطابق مسلم اقلیتی وینڈرز، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، کو عوامی مقامات پر مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا، برہنہ کرکے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتاہے ۔خواتین ریڑھی بانوں کو ہراساں کرنے سے پہلے اکثر آن لائن ڈوکسنگ کی جاتی ہے۔ سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے مخصوص وینڈنگ علاقوں کو "قبضہ گروہ” یا "درانداز” قرار دیا جاتا ہے، جو مقامی شدت پسند عناصر کے لیے کارروائی یا جبری بندش کا اشارہ بن جاتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی