سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں نامعلوم افراد نے سیب کے درجنوں درخت کاٹ دیے ہیں، جس سے مقامی کسانوں کا روزگاربری طرح سے متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ شمالی کشمیر کے قصبے سوپور کے علاقے بوہری پورہ میں پیش آیا، جہاں سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد رات کی تاریکی میں ایک باغ میں داخل ہوئے اور سیب کے کئی درخت کاٹ دیے۔ باغ کے مالک قلبی حسین میر نے میڈیا کو بتایا ہے کہ تقریبا 55 اعلی معیار کے سیب کے درختوں کو کاٹ دیاگیاہے ، جس سے ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ متاثرہ خاندان نے قابض انتظامیہ سے ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی لوگوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات بار بار پیش آ رہے ہیں، جس سے مقبوضہ علاقے کی پہلے سے کمزور زرعی معیشت کو مزید نقصان پہنچ رہاہے ۔پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم علاقے کے لوگوں نے قابض انتظامیہ سے باغات اور زرعی وسائل کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں سینکڑوں پھل دار درختوں کی کٹائی کے واقعات پیش آئے ہیں، جو ایک تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں اور کشمیری کاشتکاروں کو معاشی بدحالی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔مقامی لوگوں نے قابض انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی کی جائے، بصورت دیگر ہزاروں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ شمالی کشمیر کے قصبے سوپور کے علاقے بوہری پورہ میں پیش آیا، جہاں سادہ کپڑوں میں ملبوس نامعلوم افراد رات کی تاریکی میں ایک باغ میں داخل ہوئے اور سیب کے کئی درخت کاٹ دیے۔ باغ کے مالک قلبی حسین میر نے میڈیا کو بتایا ہے کہ تقریبا 55 اعلی معیار کے سیب کے درختوں کو کاٹ دیاگیاہے ، جس سے ان کی آمدنی کا واحد ذریعہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ متاثرہ خاندان نے قابض انتظامیہ سے ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی لوگوں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات بار بار پیش آ رہے ہیں، جس سے مقبوضہ علاقے کی پہلے سے کمزور زرعی معیشت کو مزید نقصان پہنچ رہاہے ۔پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم علاقے کے لوگوں نے قابض انتظامیہ سے باغات اور زرعی وسائل کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف علاقوں میں سینکڑوں پھل دار درختوں کی کٹائی کے واقعات پیش آئے ہیں، جو ایک تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتے ہیں اور کشمیری کاشتکاروں کو معاشی بدحالی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔مقامی لوگوں نے قابض انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت کارروائی کی جائے، بصورت دیگر ہزاروں خاندانوں کا روزگار خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
