لاہور:آسیہ اندرابی اور انکی ساتھوں کو عمر قید کی سزا کے خلاف کشمیر سنٹر کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ کشمیری آزادی پسندوں کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، مقررین

 


لاہور:کشمیری حریت رہنماوں آسیہ اندابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھارتی عدالت کی طرف سے دی جانے والی لمبی سزاوں کے خلاف کشمیرسنٹرلاہور کے زیراہتمام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مظاہرے میں سیاسی وسماجی جماعتوں کے رہنماوں کے علاوہ مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور ان سزاوں کو غیر منصفانہ قرار دیا۔احتجاجی مظاہرہ سے پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما غلام عباس میر، مسلم لیگ ن ویمن ونگ کی جنرل سیکرٹری سابق پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر فرزانہ نذیر، انچارج کشمیر سینٹر لاہور انعام الحسن، رہنما محاذ رائے شماری آفتاب نازکی، معروف عالم دین علامہ فداءالرحمان حیدری اور ثاقب بٹ نے خطاب کیا۔
مقررین نے نے کہا کہ حریت رہنماوں کو متعصب اور جانبدار بھارتی عدالتوں کی طرف سے جھوٹے مقدمات میں سزائیں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انھوں نے کہا کہ کشمیریوں نے کبھی بھارت کے غاصبانہ قبضہ کو تسلیم نہیں کیا اور وہ شہداءکے خون سے سنچی تحریک کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ یاسین ملک کو، جنہیں پہلے ہی عمر قیدکی سزا دی جاچکی ہے، بھی سزائے موت دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں اور اگر ایسا کیا گیا تو بھارت کا اصل مکروہ چہرہ مزید بے نقاب ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یاسین ملک، آسیہ انداربی اور دیگر حریت رہنماوں کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اپنے وطن کی آزادی کے لیے آواز بلند کررہے ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت کا مطالبہ کررہے ہیں۔
مقررین نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ بے گناہ کشمیریوں کے خلاف جاری بھارتی جبر کا نوٹس لے اور انہیں انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خودرادیت دلانے کیلئے کردار اداکریں ۔مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر انصاف، آزادی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خاتمے کے حوالے سے نعرے درج تھے۔ بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت نے گزشتہ ماہ آسیہ اندرابی کو عمر قید جبکہ فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو جھوٹے مقدمے میں 30،30برس قید کی سزا سنائی۔

جدید تر اس سے پرانی