ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشد داور کالے قوانین کے بے دریغ استعمال پر اظہار تشویش

 


لندن:
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کے غیر قانونی طور پرزیر قبضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں کی سنگین پامالیوں، گھروں کی مسماری، کتابوں پر پابندی، میڈیا پر قدغن ، دوران حراست تشدد اور کالے قوانین کے بے دریغ استعمال پر سخت تشویش ظاہر کی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ 2025/26 میں کہا ہے کہ گزشتہ سال اپریل میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی قابض حکام نے غداری کے قوانین اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے سکیورٹی ناکامیوں پر سوال اٹھانے اور جوابدہی کا مطالبہ کرنے پر صحافیوں، ماہرین تعلیم اور طلبہ کو گرفتار کیا یا ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کر کے انہیں گرفتار کرلیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس اگست میںقابض انتظامیہ نے معروف صحافیوں، مورخین، حقوق نسواں کی علمبردار خواتین اور امن کے حامی مصنفین کی 25 کتابوں پر پابندی عائد کر دی اور ان پر "تشدد کو بڑھکانے "کا الزام عائد کیاگیا ۔ میڈیا پر قدغنوں کے حوالے سے رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ نومبر میں ریاستی تحقیقاتی ادارے ایس آئی اے نے معروف صحافی انورادھابھسین کے روزنامے کشمیر ٹائمزکے دفتر پر چھاپہ مار اور ادارے پر بھارت کی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واضح کیا کہ بھارتی سپریم کورٹ کے رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہریوں کے گھروں کو "اجتماعی سزا” کے طور پر مسمار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 14نومبر کو بھارتی فورسز نے ضلع پلوامہ میں ایک خاندان کا گھر بغیر پیشگی اطلاع مسمار کر دیا گیا جبکہ اہل خانہ گھر میں ہی موجود تھے۔ ایک اور واقعے میں 27نومبر کوجموں ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سرحد پار منشیات سمگلنگ کا ریکیٹ بے نقاب کرنے پر صحافی عرفاز ڈائنگ کا مسمار کردیا جس میں ایک پولیس اہلکار بھی ملوث تھا ۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے بھی مارچ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں پربڑھتی ہوئی پابندیوں پر تشویش ظاہر کی تھی ۔رپورٹ میں 25سالہ مکھن دین کے قتل کا بھی حوالہ دیا گیاہے، جس نے فروری میں ضلع کٹھوعہ میں مبینہ پولیس تشدد کے بعد خودکشی کر لی۔ ایمنسٹی کے مطابق مکھن دین نے موت سے قبل ایک ویڈیو پیغام میں اپنی بے گناہی بیان کی اور کہاتھا کہ پولیس اس پر عسکریت پسندوں کا ہمدرد ہونے کا اعتراف کرنے کیلئے دبا ئوڈال رہی تھی۔رپورٹ میں واضح کیا گیاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا جابرانہ طرز حکمرانی انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کیلئے سنگین خطرہ ہے۔

جدید تر اس سے پرانی