جے پور:بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی طرف سے افتتاح سے ایک دن قبل ریاست راجستھان کے ضلع بالوترا میں واقع ایک اہم آئل ریفائنری میں اچانک شدیدآگ بھڑک اٹھی۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق واقعے کے بعد وزیر اعظم کا ریفائنری کے افتتاح کا پروگرام عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔بھارتی حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ آگ ضلع بالوترا کے علاقے پچپدرا میں قائم ریفائنری کے سی ڈی یو سیکشن میں لگی، جہاں خام تیل کو مختلف مصنوعات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ آگ لگنے کے بعد ریفائنری سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھائی دیے ، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔حکام کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔یہ ریفائنری ایچ پی سی اور راجستھان حکومت کا مشترکہ منصوبہہے، جسے بھارت کا پہلا گرین فیلڈ انٹیگریٹڈ ریفائنری- کم-پیٹروکیمیکل کمپلیکس قرار دیا جاتا ہے۔اس منصوبے کا سنگ بنیاد 22 ستمبر 2013 کو کانگریس لیڈر سونیا گاندھی نے رکھا تھا، جس کی ابتدائی لاگت 37 ہزار 230 کروڑ بھارتی روپے بتائی گئی تھی۔ بعد ازاں حکومت کی تبدیلی کے بعد 16 جنوری 2018 کو وزیراعظم نریندر مودی نے اس منصوبے کا دوبارہ آغاز کیا اور اس کی لاگت بڑھا کر 43 ہزار 129 کروڑ روپے کر دی گئی۔ افتتاح سے عین قبل پیش آنے والے اس واقعے نے سکیورٹی اور تکنیکی انتظامات پر بھی سوالات اٹھا دئے ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق واقعے کے بعد وزیر اعظم کا ریفائنری کے افتتاح کا پروگرام عارضی طور پر ملتوی کر دیا گیا ہے۔بھارتی حکام نے میڈیا کو بتایا ہے کہ آگ ضلع بالوترا کے علاقے پچپدرا میں قائم ریفائنری کے سی ڈی یو سیکشن میں لگی، جہاں خام تیل کو مختلف مصنوعات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ آگ لگنے کے بعد ریفائنری سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھائی دیے ، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔حکام کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔یہ ریفائنری ایچ پی سی اور راجستھان حکومت کا مشترکہ منصوبہہے، جسے بھارت کا پہلا گرین فیلڈ انٹیگریٹڈ ریفائنری- کم-پیٹروکیمیکل کمپلیکس قرار دیا جاتا ہے۔اس منصوبے کا سنگ بنیاد 22 ستمبر 2013 کو کانگریس لیڈر سونیا گاندھی نے رکھا تھا، جس کی ابتدائی لاگت 37 ہزار 230 کروڑ بھارتی روپے بتائی گئی تھی۔ بعد ازاں حکومت کی تبدیلی کے بعد 16 جنوری 2018 کو وزیراعظم نریندر مودی نے اس منصوبے کا دوبارہ آغاز کیا اور اس کی لاگت بڑھا کر 43 ہزار 129 کروڑ روپے کر دی گئی۔ افتتاح سے عین قبل پیش آنے والے اس واقعے نے سکیورٹی اور تکنیکی انتظامات پر بھی سوالات اٹھا دئے ہیں۔
