سوڈان کا بدترین انسانی المیہ: جنگ کے سائے میں سسکتی انسانیت اور عالمی برادری کی خاموشی

 

سوڈان اس وقت دنیا کی تاریخ کے بدترین اور ہولناک ترین انسانی حقوق کے بحران سے گزر رہا ہے جہاں مسلح افواج اور نیم فوجی دستوں کے درمیان جاری طویل خانہ جنگی نے پورے ملک کو مقتل میں تبدیل کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے نمائندوں کی تازہ ترین دستاویزات کے مطابق سوڈان میں بنیادی حقوق نام کی کوئی چیز باقی نہیں بچی ہے اور جنگجو گروہ عام شہریوں، شفا خانوں، اور پناہ گزینوں کے خیموں کو بلا جھجک نشانہ بنا رہے ہیں۔ خرطوم اور دارفور کی ریاستوں میں انسانی حقوق کی ایسی سنگین خلاف ورزیاں دیکھنے کو ملی ہیں جن کی مثال حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی، جہاں معصوم شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور لاکھوں افراد بنیادی خوراک اور پینے کے صاف پانی سے مکمل محروم ہو چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اپنی دستاویزی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ سوڈان میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنگی جرائم کو باقاعدہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ دارفور کے خطے میں نسلی کشی کی ہولناک لہر دوبارہ سر اٹھا چکی ہے جہاں مخصوص خاندانوں اور قبیلوں کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے اور ان کے پورے پورے دیہات نذرِ آتش کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت سوڈان کے اندر اور پڑوسی ممالک کی سرحدوں پر دنیا کا سب سے بڑا مہاجرین کا بحران جنم لے چکا ہے، جہاں بنیادی طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں اور ادویات کی شدید قلت کے باعث روزانہ سینکڑوں بچے اور بوڑھے وبائی امراض کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔
سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جنگی گروہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی جانے والی امداد کو دانستہ طور پر روک رہے ہیں، جسے عالمی قوانین کے تحت صریحاً ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور افریقی اتحاد کی بارہا اپیلوں اور پابندیوں کے باوجود سوڈانی عوام کو اس آگ سے نکالنے کے لیے کوئی ٹھوس اور عملی اقدامات نہیں کیے جا سکے، جس کی وجہ سے وہاں کے معصوم لوگ خود کو عالمی برادری کی طرف سے بالکل تنہا اور فراموش کردہ محسوس کر رہے ہیں۔ سوڈان میں انسانی حقوق کی پامالی محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک گہرا زخم ہے، جس کے خاتمے کے لیے فوری طور پر عالمی عدالتِ انصاف اور بڑی طاقتوں کو اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے جنگ بندی کروانی ہوگی۔


جدید تر اس سے پرانی