مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور فوجی تناؤ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی اور اہم ترین خبر بن چکا ہے جس پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ اس سنگین صورتحال میں پاکستان نے ایک بار پھر خطے کے امن کے لیے اپنا کلیدی کردار سنبھالتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان پسِ پردہ ثالثی اور سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ پاکستانی دفترِ خارجہ اور اعلیٰ حکام کی جانب سے واشنگٹن اور تہران سے مسلسل رابطے جاری ہیں تاکہ خطے کو کسی بڑے اور ہولناک جنگی تصادم سے بچایا جا سکے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور سکیورٹی پر پڑ سکتے ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان کے اندرونی محاذ پر ملکی سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کا ایک انتہائی اہم اور کڑا بیان سامنے آیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی آرمی چیف کے پاکستان مخالف الزامات اور متعصبانہ بیانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارتی اداروں اور فوج میں انتہا پسندانہ نظریات تیزی سے سرایت کر رہے ہیں۔ اس سفارتی گرما گرمی کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف حصوں میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز بھی تیزی سے جاری ہیں، جن کے دوران متعدد خطرناک دہشت گردوں کو ٹھکانے لگایا گیا ہے۔
ان سنگین سفارتی اور دفاعی چیلنجز کے ساتھ ساتھ ملک کو ایک بار پھر معاشی دباؤ کا سامنا ہے جہاں مئی کے اس مہینے میں افراطِ زر کی شرح بڑھ کر گیارہ فیصد سے تجاوز کر جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ بنیادی اشیائے خوردونوش، خصوصاً گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہریوں کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کی وجہ سے عوامی اور میڈیا کے حلقوں میں حکومت کی معاشی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ عالمی سفارت کاری، پاک بھارت دفاعی تناؤ اور ملکی معیشت کا یہ تکون اس وقت کسی بھی نیوز پورٹل یا کالم سیکشن کے لیے سب سے گرم اور موزوں ترین موضوع ہے۔