لبنان میں ’پیجرز‘ کے پھٹنے سے 9 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی ۔۔۔۔ بی بی سی

 

لبنان میں ’پیجرز‘ کے پھٹنے سے 9 افراد ہلاک، سینکڑوں زخمی

لبنان

،تصویر کا ذریعہAFP

لبنان کے وزیر صحت کے مطابق پورے مُلک میں ’پیجرز‘ کے پھٹنے سے اب تک 9 افراد ہلاک جبکہ 2750 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

لبنان میں تعینات ایرانی سفیر ان سینکڑوں افراد میں شامل ہیں جو منگل کے روز جنوبی بیروت اور لبنان کے کئی دیگر علاقوں میں ہونے والے ’پیجرز کے پراسرار‘ دھماکوں میں مبینہ طور پر زخمی ہوئے ہیں۔

لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بیروت کے جنوبی مضافات اور کئی دیگر علاقوں میں پیجرز میں دھماکے ہوئے ہیں۔ حزب اللہ کے المنار ٹی وی نے بھی زخمی ہونے والوں کی شناخت ظاہر کیے بغیر کہا ہے کہ بہت سے پیجرز کے پھٹ جانے کی وجہ سے اُن کے متعدد جنگجو بھی زخمی ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زخمی افراد زمین پر بیٹھے یا لیٹے ہوئے ہیں تاہم کُچھ کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ غیر مصدقہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکانوں میں ہونے والے دھماکے بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

حزب اللہ کے ایک عہدے دار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ غزہ جنگ کے متوازی 11 ماہ قبل اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے بعد یہ ’اب تک کی سب سے بڑی سکیورٹی کی خلاف ورزی‘ ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ پیجرز کے پھٹنے سے زخمی ہونے والے افراد میں ڈاکٹر، مسلح افواج، حزب اللہ کے جنگجو اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

لبنان کی وزارت صحت نے ’پیجر‘ رکھنے اور ان کا استعمال کرنے والے افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سے دور رہیں۔

اسرائیل کی جانب سے اب تک اس صورتحال پر کسی بھی قسم کا کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

تاہم اسرائیل بارہا متنبہ کر چُکا ہے کہ وہ حزب اللہ کو سرحد سے دور کرنے کے لیے فوجی آپریشن شروع کر سکتا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی