’اگر ہم میانمار، غزہ، انڈیا کے مسلمانوں کے مصائب سے غافل ہیں تو ہم مسلمان نہیں‘: ایرانی رہبر اعلیٰ کا بیان جس پر انڈیا کو تشویش ہے ... بی بی سی

 

’اگر ہم میانمار، غزہ، انڈیا کے مسلمانوں کے مصائب سے غافل ہیں تو ہم مسلمان نہیں‘: ایرانی رہبر اعلیٰ کا بیان جس پر انڈیا کو تشویش ہے

امام علی خامنہ ای

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنامام علی خامنہ ای
  • مصنف,مرزا اے بی بیگ
  • عہدہ,بی بی سی اردو، نئی دہلی

ایران کے رہبر اعلیٰ اور روحانی پیشوا آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای نے پیغمبرِ اسلام کے یوم پیدائش کے موقع پر اپنے ایک بیان میں انڈیا کو غزہ اور میانمار کے ساتھ ان ممالک میں شمار کیا ہے جہاں مسلمانوں کو مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے۔

انڈیا نے ایرانی مذہبی رہنما کے بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اسے ’بے بنیاد‘ اور ’ناقابل قبول‘ قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ انڈیا اور ایران کے تاریخی تعلقات رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور تجارتی تعلقات ہیں لیکن گذشتہ برسوں کے دوران ان میں اتار چڑھاؤ نظر آیا ہے۔

گذشتہ روز ایران کے رہبر اعلیٰ کی جانب سے کی گئی ٹویٹس پوری دنیا میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کا احاطہ کرتی ہیں۔

سید علی خامنہ ای نے متواتر اپنی کئی ٹویٹس میں ’امت مسلمہ‘ کا ذکر کیا۔ انھوں نے لکھا کہ ’امت مسلمہ کے تصور کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

جبکہ اس کے بعد کی ٹویٹ میں انھوں نے میانمار، غزہ اور انڈیا کا ہیش ٹیگ کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

ایرانی رہنما نے لکھا کہ ’اسلام کے دشمنوں نے ہمیشہ ہمیں امت مسلمہ کے مشترکہ تشخص سے لاتعلق رکھنے کی کوشش کی ہے۔ ہم اپنے آپ کو اس وقت تک مسلمان نہیں سمجھ سکتے جب تک ہم میانمار، غزہ، انڈیا یا کسی اور جگہ کے مسلمانوں کے مصائب سے غافل ہوں جو انھیں درپیش ہیں۔‘

اس کے بعد انھوں نے ’اتحاد‘ پر زور دیا اور اسے کسی حکمت عملی کے بجائے اسلام کا بنیادی اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ قرآن میں موجود ہے۔‘

وزارت خارجہ کا بیان

،تصویر کا ذریعہMEA

،تصویر کا کیپشنایرانی رہنما کے ٹویٹ پر انڈین وزارت خارجہ کا بیان

انڈیا کا ردعمل

انڈین دفتر خارجہ نے ایرانی رہنما کے ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انڈین دفتر خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ہم ایران کے رہبر اعلیٰ کی جانب سے انڈیا میں اقلیتوں کے بارے میں کیے گئے تبصروں کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ غلط معلومات ہیں اور ناقابل قبول ہیں۔ اقلیتوں پر تبصرہ کرنے والے ممالک کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے بارے میں کوئی بات کرنے سے پہلے اپنے ریکارڈ کو دیکھیں۔‘

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ انڈیا میں مسلمانوں کا اتنا ہی ہمدرد ہیں تو انھیں اپنے ملک میں جگہ دے جبکہ بعض نے لکھا کہ انڈیا دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔

بہر حال یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب ایران کے رہبر اعلیٰ کی جانب سے انڈیا کے مسلمانوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا گیا ہو۔

اس سے قبل سنہ 2020 میں جب انڈین دارالحکومت دہلی میں مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے تو بھی ایرانی رہنما نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسلمانوں کا ’قتل عام‘ قرار دیا تھا۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں انڈین حکومت سے کہا تھا کہ ’وہ ہندو انتہا پسندوں اور ان کی جماعتوں کو مسلمانوں کے قتل عام سے روکیں ورنہ وہ دنیا میں تنہا پڑ جائے گا۔‘

جدید تر اس سے پرانی