میرپور ، ولائتیے ، گداگر اور سُتی سرکار ۔۔۔۔۔۔ (چوہدری جہانگیر احمد خان)


میرپور ، ولائتیے ، گداگر اور سُتی سرکار ۔۔۔۔۔۔ 

یہ موسم ھے میرپور کے جوبن کا ۔ اس موسم میں بھکاری اس شہر میں جتھوں کی صورت ایسے نازل ھوتے ھیں جیسے اسی موسم میں پکی  بیری سے بیر گرتے ھیں ۔۔۔ ان سب کو پتہ ھے کہ یہاں پہ " کمائی " کا سیزن ھے ۔ اس لیے یہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شہر لاوارث و مظلوم  پہ حملہ آور ھوتے ھیں ۔ 
    عینی شاھد ھوں کہ  اگلے روز اسٹیڈیم کے سامنے اس پار  معروف جوس سنٹر کے دروازے پہ  ایک ھنڈا سوک آ کے رکی ۔ برطانیہ پلٹ فیملی سوار تھی ۔ بھکاری لڑکوں کے ایک غول نے گاڑی کو پلک جھپکنے میں نرغے میں لے لیا ۔ گاڑی سے برطانیہ پلٹ ایک نوجوان نکلا ۔۔ مانگنے والوں کی گنتی کر کے دوکان کے اندر گیا ۔۔ جوس کے ڈبے اور دیکر اشیاء خورد و نوش خرید لایا ۔ مانگنے والے اس پہ جھٹ پڑے ۔۔۔برطانیہ پلٹ نوجوان چہرے پہ خدا ترسی سجائے گاڑی میں سوار ھو کر روانہ ھو گیا ۔۔ اور منگتوں نے خیرات میں ملی سبھی اشیاءبشمول جوس کے ڈبے ایک ساتھ لے جا کر اسی طرح سالم ثابت اسی دوکاندار کے حوالے کیں ۔  دوکاندار نے اپنی بیچی ھوئی اشیاء منگتوں سے پونی قیمت پہ واپس لے لیں ۔  منگتوں نے دو ھزار کے بدلے ڈیڑھ ھزار کے نوٹ وصول کیے ،  جیب میں ڈالے اور ادھر ھی نیے  ولائتی شکار کا بے چینی سے انتظار کرنے لگے ۔ میں نے دیکھا کہ بھکاریوں کی دیہاڑ لگ گئی ، دوکاندار کا منافع  بن گیا ، جن کے تعاون و اجازت سے یہ ھو رھا ھے ان کی روزی حلال ھو گئی اور ولائتی کی بے جی جن کے نام کی خیرات دی ، جنت پکی ۔۔۔۔ ان میں سے کوئی بھی گھاٹے میں نہ رھا ۔  گھاٹے میں تو ھم دیسی سفید پوش ھیں جن کے جہاں جاتے ھیں ان منگتوں کے جتھے کپڑے پھاڑ دیتے ھیں ۔  میرپور کا کوئی ھوٹل ،  کوئی دوکان ، کوئی گلی اور کسی  گھر کا گیٹ ان بدمعاشوں سے قطعی محفوظ نہیں ۔ ڈھیری چوھدریاں کے سامنے مین کوٹلی روڈ پہ سڑک کے ایک کچے پیچ پہ پرسوں بیک وقت گنتی کی تو   پندرہ سے زائد جتھے دار بھکاری نکلے جو دن دیہاڑے میرپوری جنتیوں  بہشتیوں کو سرعام لوٹ رھے تھے اور یہ نودولتیے بہشتی ھم دیسی سفید پوشوں کی زندگی اجیرن بنانے میں اپنا حصہ ڈال رھے تھے ۔  ھم وہ وہ لوگ ھیں جنھیں اتنا شعور نہیں کہ نیکی کے نام پہ گناہء کبیرہ کے مرتکب ھو رھے ھیں ۔
چوہدری جہانگیر احمد خان


 

جدید تر اس سے پرانی