پی ٹی آئی کے احتجاج سے قبل دارالحکومت سیل، موبائل سروس بلاک DW



جیل میں مقید پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامیوں کی طرف سے احتجاج کی کال پر حکام نے حکومت مخالف ریلی کو روکنے کے لیے اسلام آباد کی ناکہ بندی کر دی۔ تحریک انصاف کے حامیوں کی طرف سے احتجاجی ریلیوں کا یہ تازہ ترین سلسلہ گزشتہ ماہ سے شروع ہوا۔ پی ٹی آئی موجودہ حکومت کو دھاندلی کے ساتھ تشکیل پانے والی حکومت قرار دیتے ہوئے حکمران مخلوط حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔

پی ٹی آئی کے کارکنوں کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج

 دارالحکومت کا منظر

اسلام آباد کو بلاک کرنے کے لیے شپنگ کنٹینرز کا استعمال کیا گیا ہے۔ داخلی اور خارجی راستوں پر بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق پولیس نے دارالحکومت میں ہر طرح کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعرات کی شام دیر گئے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا،'' اگر کوئی اسلام آباد پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘‘

انہوں نے عمران خان کی پارٹی پر زور دیا کہ وہ ریلی کو بعد کی تاریخوں تک کے لیے مؤخر کر دے تاکہ 15 اور 16 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس کی تیاریوں میں کوئی رکاوٹ یا خلل پیدا نہ ہو۔

 

جدید تر اس سے پرانی