سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہاہے کہ بھارت کیساتھ جموں وکشمیر کا رشتہ دفعہ 370اور35A کی بنیاد پر جڑاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی درجے کی بحالی کے بعد ہی لوگوں کے مسائل حقیقی معنوں میں حل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے کوششوں میں لگے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی کا وعدہ کیا ہے اب اس کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ دفعہ370اور 35اے کی بحالی کی لڑائی سے دستبرداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون لایا تھا تاکہ یہاں کے عوام خصوصا جموں کے ڈوگروں کی زمینیں اور نوکریاں مقامی لوگوں کیلئے بچائی جاسکیں اور اسی قانون نے بعد میں 35اے کی شکل اختیارکی۔ انہوں نے کہاکہ انہی دفعات کی بنیاد پر جموں وکشمیر کا بھارت کیساتھ رشتہ جڑا ہے۔ انہوں نے منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں کہا بحیثیت سماج یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی روک تھام کیلئے اپنا کرداراداکریں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فاروق عبداللہ نے سرینگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی درجے کی بحالی کے بعد ہی لوگوں کے مسائل حقیقی معنوں میں حل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے کوششوں میں لگے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ بھارت کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے ریاستی حیثیت کی بحالی کا وعدہ کیا ہے اب اس کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ دفعہ370اور 35اے کی بحالی کی لڑائی سے دستبرداری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہاکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927میں سٹیٹ سبجیکٹ قانون لایا تھا تاکہ یہاں کے عوام خصوصا جموں کے ڈوگروں کی زمینیں اور نوکریاں مقامی لوگوں کیلئے بچائی جاسکیں اور اسی قانون نے بعد میں 35اے کی شکل اختیارکی۔ انہوں نے کہاکہ انہی دفعات کی بنیاد پر جموں وکشمیر کا بھارت کیساتھ رشتہ جڑا ہے۔ انہوں نے منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے بارے میں کہا بحیثیت سماج یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی روک تھام کیلئے اپنا کرداراداکریں۔
.jpg)