مظفرآباد (پی آئی ڈی) 11 فروری 2026
آزادجموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ یومِ یکجہتی کشمیر محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ یہ پاکستان کے غیر متزلزل عزم اور کشمیری عوام کے اس پختہ ارادے کی تجدید ہے کہ وہ اپنے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔ یہ دن عالمی برادری کو یاد دہانی کراتا ہے کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر آج بھی حل طلب ہے۔جموں و کشمیر کا تنازعہ محض دو طرفہ یا علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے، جسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ اس تنازعے کا منصفانہ اور پُرامن حل نہ صرف کشمیری عوام بلکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے، جو دو ایٹمی طاقتوں کا خطہ ہے۔وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹرٹیجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام کانفرنس ’’ویژن کشمیر: امن اور استحکام کی راہیں‘‘کے موضوع پر ویڈیو لنک کے ذریعے اظہار خیال کرتے ہوے کیا ۔وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ پچھتر برسوں سے بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے عوام سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، بلاجواز گرفتاریاں، سیاسی اختلافِ رائے کا جبر کے ذریعے خاتمہ اور اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغنیں وہاں کے عوام کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔ یہ تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین، انسانی ہمدردی کے اصولوں اور عالمی انسانی حقوق کے مسلمہ ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات، جن کے بعد آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور مقبوضہ کشمیر کی شناخت کو مسخ کرنے کی کوششیں کی گئیں، خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ ایسے اقدامات نہ تو تاریخی حقائق کو بدل سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کی جائز امنگوں کو دبایا جا سکتا ہے۔پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کا رشتہ تاریخ، عقیدے، ثقافت اور مشترکہ قربانیوں پر مبنی ایک مضبوط اور لازوال تعلق ہے۔ پاکستان نے ہر دور میں اور ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کی جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کی ہے۔ یہ حمایت اصولی، قانونی اور کشمیری عوام کی خواہشات کے عین مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر جمہوری طرزِ حکمرانی، سیاسی آزادی اور سماجی و معاشی ترقی کی ایک زندہ مثال ہے۔ یہ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ کشمیری عوام وقار اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے معاملات خود چلانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جو ان کے حقِ خودارادیت کے مقدمے کو مزید مضبوط بناتا ہے۔کشمیر کے مستقبل کا وژن انصاف، بامعنی مکالمے اور کشمیری عوام کی آزاد مرضی کے احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔ امن طاقت، جبر یا یکطرفہ اقدامات کے ذریعے مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ پائیدار امن اور استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے جب کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی ضمانت کے مطابق اپنے حقِ خودارادیت کے استعمال کا موقع دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں عالمی برادری، بالخصوص انسانی حقوق کی تنظیموں، عالمی تھنک ٹینکس اور بااثر ممالک سے پُرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ محض تشویش کے بیانات سے آگے بڑھیں اور بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے شدید حالات کے باوجود بے مثال ثابت قدمی، جرات اور حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ آزاد جموں و کشمیر کی قیادت اور عوام، پاکستان کے ساتھ مل کر، اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، یہاں تک کہ ان کی جائز جدوجہد اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے۔انہوں نے سی آئی ایس ایس کو اس اہم کانفرنس کے انعقاد پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے خطے میں امن، انصاف اور استحکام کے لیے اپنی توجہ اور عزم کا اظہار کیا۔
