سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے مودی کی بھارتی حکومت کو جموں وکشمیر کی تاریخ اور سیاست سے متعلق 25کتابوں پر پابندی کے خلاف دائر درخواستوں پر جواب کیلئے 25مارچ تک کی مہلت دی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مودی حکومت نے ممتاز مصنفین اور مورخین کی ان کتابوں کوبھارت مخالف قراردیتے ہوئے گزشتہ سال 2025میں پابندی عائد کر دی تھی ۔درخواست گزاروں نے مودی حکومت کے اس اقدام کو آزادی اظہار رائے پر حملہ اور اختلافی آوازوں کو دبانے کی ایک کوشش قراردیاہے۔ہائی کورٹ نے مودی حکومت سے درخواستوں پر جواب طلب کرتے ہوئے کتابوں پر پابندی کی مخصوص بنیاد فراہم کرنے کو کہا ہے۔ ممنوعہ کتابوں میں اے جی نورانی کی دی کشمیر ڈسپیوٹ 1947-2012، سمنترا بوس کی کشمیر ایٹ دی کراس روڈ اور انورادھا بھسین کی اے ڈسمینٹلڈ اسٹیٹ شامل ہیں۔