کالم: حرفِ روشن۔ ✍🏻 قاری محمد عثمان صدیقی ۔۔ مقبول بٹ شہید — آزادی کا استعارہ۔۔


کالم: حرفِ روشن۔
✍🏻 قاری محمد عثمان صدیقی ۔۔
مقبول بٹ شہید — آزادی کا استعارہ۔۔
 ۔ تاریخ کے افق پر کچھ نام ایسے ابھرتے ہیں جو وقت کی دھند میں گم نہیں ہوتے، بلکہ نسلوں کے لیے چراغِ راہ بن جاتے ہیں۔ مقبول بٹ شہید بھی ایسا ہی ایک روشن استعارہ ہیں—وہ صرف ایک فرد نہیں تھے، بلکہ ایک نظریہ، ایک تحریک، ایک مزاحمتی فکر کا نام تھے۔ انہوں نے غلامی کے اندھیروں میں آزادی کا چراغ جلایا اور اپنے خون سے یہ اعلان لکھ دیا کہ قومیں بندوق کے سائے میں زیادہ دیر قید نہیں رہ سکتیں۔
11 فروری 1984ء کو تہاڑ جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیا جانے والا فیصلہ محض ایک عدالتی کارروائی نہیں تھا، بلکہ ایک سیاسی انتقام اور عدالتی قتل تھا۔ بھارتی ریاست نے یہ سمجھا کہ تختۂ دار پر لٹکا کر وہ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کو دفن کر دے گی، مگر اس نے تاریخ کا سبق نہیں پڑھا تھا۔ شہیدوں کا خون کبھی رائیگاں نہیں جاتا؛ وہ زمین میں جذب ہو کر تحریکوں کو نئی زندگی دیتا ہے۔ مقبول بٹ شہید کی شہادت نے کشمیر کی جدوجہد کو دبایا نہیں، بلکہ اسے ایک عالمی مسئلہ بنا دیا۔
مقبوضہ کشمیر گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال بنا ہوا ہے۔ لاکھوں فوجیوں کی موجودگی نے اس خوبصورت وادی کو ایک عسکری چھاؤنی میں بدل دیا ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، جعلی مقابلے، اجتماعی قبریں، پیلٹ گنز سے نوجوانوں اور بچوں کی بینائی چھین لینا، خواتین کی بے حرمتی، گھروں کی مسماری، میڈیا پر قدغنیں اور انٹرنیٹ کی بندشیں—یہ سب محض دعوے نہیں بلکہ عالمی رپورٹس سے ثابت شدہ حقائق ہیں۔ کالے قوانین جیسے AFSPA اور PSA نے بھارتی افواج کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ کسی بھی شہری کو بغیر مقدمے کے گرفتار کریں، گولی ماریں اور جواب دہی سے بچ نکلیں۔ یہ قوانین انصاف کے ضامن نہیں، بلکہ جبر کے محافظ ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں واضح طور پر کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیتی ہیں۔ 1948ء اور اس کے بعد منظور ہونے والی قراردادوں میں استصوابِ رائے کا وعدہ کیا گیا، مگر بھارت نے نہ صرف ان قراردادوں سے انحراف کیا بلکہ 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے عالمی قوانین اور دو طرفہ معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کی۔ یہ اقدام نہ صرف کشمیریوں کے بنیادی حقوق پر حملہ تھا بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک کھلا چیلنج بھی۔ سوال یہ ہے کہ اگر عالمی ادارے اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد نہ کرا سکیں تو انصاف کا عالمی نظام کس بنیاد پر قائم ہے؟
عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ طاقتور ریاستوں کے مفادات نے مظلوموں کی آہوں کو دبا دیا ہے۔ یہ خاموشی محض سیاسی مصلحت نہیں، بلکہ انسانی حقوق کے دعووں کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔ اگر دنیا کے کسی اور خطے میں ایسے مظالم ہوتے تو شاید ردعمل مختلف ہوتا، مگر کشمیر کے معاملے میں عالمی ضمیر کی یہ بے حسی لمحۂ فکریہ ہے۔
مگر ظلم کی تاریخ گواہ ہے کہ جبر کی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں۔ فرعونیت زیادہ دیر قائم نہیں رہتی، اور نمرودیت کا انجام ہمیشہ عبرتناک ہوتا ہے۔ مقبول بٹ شہید نے اپنے خون سے یہ سبق دیا کہ حق کے لیے کھڑا ہونا ہی اصل زندگی ہے۔ انہوں نے اپنے جسم کو مٹا دیا مگر اپنے نظریے کو امر کر دیا۔ آج بھی کشمیری نوجوان جب ظلم کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پیچھے مقبول بٹ شہید کی فکر اور عزم موجود ہوتا ہے۔
کشمیر کوئی سرحدی تنازع نہیں، یہ ایک قوم کے حقِ خودارادیت کا مسئلہ ہے۔ اسے طاقت، سنسرشپ اور کالے قوانین کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔ شہداء کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔ مقبول بٹ شہید اور ہزاروں دیگر شہداء کا خون ایک دن ضرور آزادی کا سورج طلوع کرے گا۔ تاریخ کا پہیہ سست ہو سکتا ہے، مگر رکتا نہیں۔ وہ گھومتا ہے اور آخرکار مظلوم کے حق میں فیصلہ سناتا ہے۔
آج کا حرفِ روشن یہی ہے کہ مقبول بٹ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنا صرف الفاظ کا تقاضا نہیں، بلکہ عہد کی تجدید ہے۔ یہ عہد کہ ہم حق کی آواز بلند کرتے رہیں گے، مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑتے رہیں گے۔ غلامی کی رات چاہے کتنی ہی طویل ہو، سحر کا آنا یقینی ہے۔
سلام ہے مقبول بٹ شہید پر—
سلام ہے شہداءٔ کشمیر پر—
اور یقینِ کامل ہے کہ
کشمیر کی آزادی مقدر ہے، اور آزادی کا سورج طلوع ہو کر رہے گا۔


 

جدید تر اس سے پرانی