بھارت کا جارحانہ طرز عمل جنوبی ایشیا میں جوہری خطرات پیدا کر رہا ہے

 

اسلام آباد:بھارت کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اوپندرہ دِویدی کی 13 جنوری 2026 کی سالانہ پریس کانفرنس میں جھوٹے بیانیے دہرائے گئے تاکہ اپنی جارحیت کو جائز ثابت کیا جا سکے اور کنٹرول لائن پر زبردستی”نیامعمول “ نافذ کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
جنرل دویدی کے دعوے بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیںتاکہ مئی 2025 کے تصادم میں بھارت کی ناکامیوں کو چھپایا جاسکے۔آپریشن سندور میں22منٹ کی کارروائی کی کوئی حقیقت نہیں۔ پاکستان کے فیصلوں کو متاثر کرنے یا 100 پاکستانیوں کو ہلاک کرنے کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ بھارت کا پروپیگنڈا ہے تاکہ خود کو پھرتیلا اور بالادست ظاہر کیا جائے، حالانکہ پاکستان کی فوج نے بھارت کو بھاری نقصان پہنچانے کے بعد جنگ بندی پر مجبور کردیا۔ کنٹرول لائن پردہشت گرد کیمپوں کے الزامات جھوٹے ہیں۔ ان علاقوں میں عام شہری رہتے ہیں اور بھارت مستقبل میں دراندازی کے بہانے تلاش کررہا ہے۔ پاکستان کے پاس ایسا کوئی بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے،یہ بھارت کاپیشگی حملے کا جواز پیداکرنے اور کشمیری عوام کے خلاف جاری ریاستی دہشت گردی سے توجہ ہٹا کی کوشش ہے۔
بھارتی آرمی چیف کا پاکستان اور چین کے ماڈل پر مبنی راکٹ فورس کا منصوبہ بھارت کا جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایوں کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے ان کے عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔بھارت نے مئی کے تصام کے دوران جھوٹی خبریں پھیلائیں۔ امریکہ-چین اقتصادی اور سلامتی کمیٹی کی 2025 کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ بھارت کے خلاف چار روزہ جھڑپ میںواضح طورپراکستان نے کامیابی حاصل کی ۔ امریکی اعتراف پاکستان کی کامیابیوں کی تصدیق کرتا ہے جس میںجدید میزائل PL-15 سے بھارتی طیاروں کو مار گرایا گیا۔ بین الاقوامی رپورٹس پاکستان کے متوازن رویے کی تعریف کرتی ہیں اور بھارت کے اقدامات کو جوہری خطرے اور علاقائی عدم استحکام کا سبب قرار دیتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی ثالثی اور دباو¿ نے جوہری جنگ کو روکا، لاکھوں جانیں بچائیں اور پاکستان کی سول و فوجی قیادت کی تعریف کی، جبکہ بھارت نے تیسرے فریق کی مداخلت کو مسترد کیا۔

جدید تر اس سے پرانی