بھارتی پنجاب میں لداخ سے تعلق رکھنے والے بلاگر پر حملہ

 

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے خطہ لداخ سے تعلق رکھنے والے ایک معروف بلاگر عرفان شالستانی پر بھارتی پنجاب میں موہالی کے علاقے نیا گاﺅں ایس اے ایس نگرمیں وحشیانہ حملہ کیا گیا اور لوٹ لیا گیا۔
حملہ آوروں نے شالستانی کو جسمانی تشددکانشانہ بنایا ،جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور اسکے 30ہزار روپے لوٹ لیے۔ جموں و کشمیر سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے واقعے کو تشدد اور ہراساں کرنے کی سوچی سمجھی کارروائی قرار دیا۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ یہ حملہ بھارت میں کشمیریوںکے لئے بڑھتے ہوئے خطرے کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو اپنی رائے کا اظہارکرتے ہیں،لکھتے ہیں یا عوام میں اپنی پہچان رکھتے ہیں۔حملے کے بعدجے کے ایس اے کے کنوینر ناصرکھوئی ہامی نے پنجاب کے حکام سے رابطہ کیا اور مجرموں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا جس کے بعد سکھوں کی اکثریت والی مقامی پولیس نے نیا گاﺅں پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی اور ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات شروع کی۔مبصرین کا کہناہے کہ اس طرح کے واقعات بھارت بھرمیں کشمیریوں اور لداخیوں کو درپیش عدم تحفظ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

جدید تر اس سے پرانی