پروقارتقریب کا انعقادکیا جس کی صدارت کنوینر غلام محمد صفی نے کی ۔
تقریب میں شہید مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو سمیت تمام شہدائے کشمیر کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی عظیم قربانیوں کو تحریکِ آزادی کشمیر کی بنیاد اور آزادی کا ضامن قرار دیا گیا۔ کنوینر غلام محمد صفی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر آج تحریکِ آزادی کشمیر زندہ، متحرک اور رواں دواں ہے تو یہ شہدائے کشمیر کے مقدس خون کا ثمر ہے۔ ان عظیم شہادتوں نے ثابت کردیا کہ بھارت اپنی بالادستی قائم رکھنے کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے مگر وہ کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو کبھی شکست نہیں دے سکتا۔ ایسے حالات میں ہماری اجتماعی کاوشیں اور منظم جدوجہد غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہید مقبول بٹ اور شہید افضل گورو کی عظیم قربانیاں آج بھی کشمیری نوجوانوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں اور یہی تسلسل تحریکِ آزادی کشمیر کو منطقی اور فیصلہ کن انجام تک پہنچائے گا۔دیگرمقررین نے کہا کہ شہید مقبول بٹ اور شہید محمد افضل گورو تحریکِ آزاد کشمیر کے وہ عظیم اور ناقابلِ فراموش رہنما ہیں جنہوں نے اپنے مقدس خون سے جدوجہدِ آزادی کوسینچا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں عظیم رہنماو¿ں کو بھارتی عدالتوں نے عجلت، جانبداری اور انصاف کے مسلمہ اصولوں کو پامال کرتے ہوئے جرم کوثابت کئے بغیر پھانسی کے پھندے تک پہنچایا جو بھارت کے نام نہاد جمہوری اور عدالتی نظام پر ایک بدنما دھبہ ہے۔تقریب کے شرکاءنے ترلائی اسلام آباد میں پیش آنے والے دہشت گردانہ واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے جس کا کوئی مذہب اورجواز نہیںہے ۔ مقررین نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ مقررین نے شہداءکے مشن کو ہر قیمت پر جاری رکھنے اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب میں شہدائے کشمیر کے ساتھ ساتھ حال ہی میں انتقال کرنے والے حریت پسندوں محمد رمضان عرف نذیر کشمیری اور اقبال کشمیری کے درجات کی بلندی کے لئے بھی دعا کی گئی۔تقریب سے حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے سیکریٹری جنرل ایڈوکیٹ پرویز احمد شاہ، سابق کنوینر محمود احمد ساگر، سینئر حریت رہنما شمیم شال اورلبریشن سیل کے ڈائریکٹر راجہ افسر خان، نجیب غفورنے بھی خطاب کیا۔