جموں : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں جموں کے علاقے آر ایس پورہ میں بچوں کی جیل سے تین قیدیوں کے جن میں مبینہ طورپردوپاکستانی شہری بھی شامل ہیں ، پراسرار طور پر فرار ہونے پر سنگین سوالات کھڑے ہوئے ہیں ، جبکہ مبصرین نے اس واقعے کو تحریک آزادی کشمیر اورپاکستان کو بدنام کرنے کی ایک گہری سازش قرار دیا ہے۔
قابض حکام نے دعویٰ کیاکہ کراجیت سنگھ عرف گگا اور دو پاکستانی شہریوں جن کی شناخت محمد ثناءاللہ اور احسن انور کے نام سے ہوئیہے، پیر کی شام بچوں کی جیل سے فرار ہوئے جس کے بعد ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت چھ پولیس اہلکاروں کو ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر معطل کر دیا گیا۔واقعے کے دوران دو پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔قابض حکام نے دعویٰ کیا کہ قیدیوں نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا اور فرار ہوگئے جس پر بھارتیہ نیائے سنہتا اور آرمز ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں سیاسی تجزیہ کاروں اورانسانی حقوق کے مبصرین نے سرکاری دعوے پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آزاد جموں و کشمیر کے لوگ بعض اوقات غلطی سے کنٹرول لائن عبور کرتے ہیں اور بھارتی فورسز انہیں گرفتار کر کے دراندازقرار دیتی ہیں ۔ انہوں نے خدشہ ظاہرکیا کہ یہ بھی اسی طرح کاواقعہ ہو سکتا ہے اور فرار ہونے کا ڈرامہ رچاکرانہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ فرار کا ڈرامہ رچانے کا مقصد یا تو انہیں جعلی مقابلے میں قتل کرنا ہے یاتحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے انہیں سرحد پار سے درانداز کے طور پر پیش کرناہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک ہائی سیکیورٹی والی جیل میں قیدی کس طرح ہتھیار حاصل کرسکتے ہیں اور اندرونی ملی بھگت یا پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر فرار ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے افراد کو گینگ سے وابستہ یا غیر ملکی حمایت یافتہ عسکریت پسند قرار دینے کا مقصدتحریک آزادی کشمیرکو جرائم پیشہ یا بیرونی سرپرستی میں چلنے والی تحریک کے طور پر پیش کرناہے۔انسانی حقوق کے محافظوں نے واقعے کی ایک آزاد اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور ایک اورجعلی مقابلے کو روکا جاسکے۔
