امپھال: بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں کوکی قبیلے کی حالت زار کی اصل وجہ ریاستی سرپرستی میں جاری بی جے پی کی دہشت گردی ہے۔
ہندو ﺅں پر مشتمل میتی قبیلے اورمسیحی اکثریت والے کوکی قبیلے کے درمیان تنازعے میں کئی سو افراد ہلاک اور ہزاروں گھر تباہ ہوچکے ہیں۔منی پور میں سنگین حالات جہاں سخت حفاظتی انتظامات نے مصالحت کو ناممکن بنا دیا ہے، بھارت کے لیے ایک انتباہ ہے۔ کوکی قبیلے کو محروم رکھ کر میتی قبیلے کو سرکاری ملازمتوں اور قبائلی زمینوں پر حقوق دینے کے بھارتی عدالت کے فیصلے نے کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔تقریباً 50ہزارافراد جن میں اکثریت کوکی عیسائی قبیلے سے تعلق رکھتی ہے، پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پرمجبور ہیں جو یومیہ84روپے کے سرکاری وظیفے پر گزارہ کرتے ہیں۔ ایک پناہ گزین نے جس نے اپنی آنکھوں سے خود خونریزی دیکھی ہے، میتیوں کے ساتھ رہنے کو ناممکن قراردیا۔کوکی ایک خود مختار علاقے کا مطالبہ کرتے ہیں جس کی میتی قبیلہ اور دہلی کے حکمران شدید مخالفت کرتے ہیں۔ ایک سول سوسائٹی گروپ پیپلز یونین فار سول لبرٹیزکا دعویٰ ہے کہ یہ تنازعہ بھارتی حکومت کی ناکامیوں کی وجہ سے بڑھا۔ کوکیوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی سے وابستہ ریاست کے وزیر اعلیٰ ان کے خلاف نفرت پھیلارہے ہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں کوکیوں کو درپیش نسلی امتیاز کو اجاگر کیا گیا ہے جنہیں میانمار سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن قراردیاجارہا ہے۔صورتحال کو معمول پر لانے میں بی جے پی کی ہچکچاہٹ نے مقامی لوگوں کے اس یقین کو تقویت بخشی ہے کہ دہلی کے حکمرانوں کو انہیں درپیش مشکلات کی کوئی پروہ نہیں ہے۔
