کالم: حرفِ روشن
✍🏻۔ قاری محمد عثمان صدیقی
رمضان المبارک کی آمد — نیکیوں کا موسمِ بہار!
فضاؤں میں ایک خاص سی لطافت گھلنے لگی ہے، دلوں میں عجب سی طمانیت اتر رہی ہے، مسجدوں کی رونقیں بڑھنے کو ہیں، اور روحانی ساعتوں کی آمد کا اعلان ہو چکا ہے۔ جی ہاں! رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیاں دستک دے رہی ہیں۔ وہ مہینہ جس کے بارے میں اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
"شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ"
(سورۃ البقرہ: 185)
یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، جس میں رحمتیں برستی ہیں، مغفرت کے دروازے کھلتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
"جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں۔" (بخاری، مسلم)
رمضان صرف روزے کا نام نہیں، یہ تربیت کا مہینہ ہے۔ یہ نفس کو قابو میں رکھنے، خواہشات کو لگام دینے اور اپنے باطن کو پاک کرنے کا سنہری موقع ہے۔ گویا یہ نیکیوں کا موسمِ بہار ہے—جس میں ہر نیکی کئی گنا بڑھا دی جاتی ہے۔
رمضان: فائدہ اٹھانے کا مہینہ
بدقسمتی سے ہم میں سے بہت سے لوگ رمضان کو محض سحری و افطاری اور چند رسمی عبادات تک محدود کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ پورے سال کی اصلاح کا مہینہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں اپنی زندگی کا جائزہ لینا چاہیے:
کیا ہماری نمازیں درست ہیں؟
کیا ہمارا کاروبار حلال ہے؟
کیا ہمارے معاملات دیانت دارانہ ہیں؟
کیا ہم دوسروں کے حقوق ادا کر رہے ہیں؟
رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اگر تم بھوکے پیاسے رہ سکتے ہو تو گناہوں سے بھی رک سکتے ہو۔ اگر تم حلال چیزیں چھوڑ سکتے ہو تو حرام سے کیوں نہیں بچ سکتے؟
کرنے کے اہم کام
رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی ہمیں ایک عملی منصوبہ بنانا چاہیے:
1۔ نماز کی پابندی:
پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرنے کا عزم کریں، خاص طور پر فجر اور عشاء کی نماز۔
2۔ تلاوتِ قرآن:
روزانہ کم از کم ایک پارہ پڑھنے کی کوشش کریں تاکہ ایک قرآن مکمل ہو۔ اگر ممکن ہو تو ترجمہ و تفسیر بھی ساتھ پڑھیں۔
3۔ تراویح کا اہتمام:
تراویح محض رسم نہیں بلکہ قرآن سننے اور سمجھنے کا موقع ہے۔
4۔ صدقہ و خیرات:
یتیموں، مسکینوں، مستحقین کا خیال رکھیں۔ یاد رکھیں، رمضان میں ایک فرض کا ثواب ستر گنا بڑھا دیا جاتا ہے اور نفل کا ثواب فرض کے برابر ہو جاتا ہے۔
5۔ صلہ رحمی:
رشتہ داروں سے تعلقات درست کریں، معاف کریں اور معافی مانگیں۔
6۔ دعاؤں کا اہتمام:
افطار کے وقت کی دعا خصوصی قبولیت کا وقت ہے۔ اپنے لیے، والدین کے لیے، وطنِ عزیز پاکستان کے لیے، اور پوری امت مسلمہ کے لیے دعا کریں۔
گناہوں سے بچنا کیوں ضروری؟
رمضان کا اصل مقصد صرف بھوک پیاس برداشت کرنا نہیں، بلکہ تقویٰ حاصل کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ"
(سورۃ البقرہ: 183)
یعنی تاکہ تم متقی بن جاؤ۔
اگر زبان جھوٹ سے نہ رکے، آنکھ گناہ سے نہ بچے، ہاتھ ظلم سے نہ رکیں، اور دل کینہ و حسد سے پاک نہ ہو—تو پھر روزہ محض بھوک پیاس رہ جاتا ہے۔
آج ہمیں خاص طور پر ان گناہوں سے بچنے کی ضرورت ہے:
جھوٹ اور غیبت
سودی معاملات
بے حیائی اور فحاشی
حقوق العباد کی پامالی
وقت کا ضیاع
رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی مختصر ہے اور حساب سخت ہے۔ یہ مہینہ دراصل ہماری آخرت سنوارنے کا سنہری موقع ہے۔
نیکیوں کا موسمِ بہار
جیسے بہار میں خشک درخت سرسبز ہو جاتے ہیں، ویسے ہی رمضان میں مردہ دل زندہ ہو جاتے ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں خود احتسابی، صبر، ایثار اور قربانی کا درس دیتا ہے۔
یہ وہی مہینہ ہے جس میں غزوہ بدر پیش آیا، جس میں فتح مکہ ہوئی—یعنی یہ مہینہ صرف عبادت کا نہیں بلکہ عزم و حوصلے کا بھی ہے۔ اگر مسلمان اس مہینے کی روح کو سمجھ لے تو وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انقلاب لا سکتا ہے۔
آخری پیغام
رمضان بار بار نہیں آتا۔ کون جانے یہ ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو؟ اس لیے آج ہی سے نیت کریں:
ہم اپنی اصلاح کریں گے
نمازوں کی پابندی کریں گے
قرآن سے تعلق مضبوط کریں گے
گناہوں کو چھوڑنے کا عہد کریں گے
اور نیکیوں کے اس موسمِ بہار سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے
آئیے! رمضان المبارک کو محض ایک مہینہ نہیں بلکہ اپنی زندگی کا موڑ بنا دیں۔ تاکہ جب یہ مہینہ رخصت ہو تو ہم بھی پہلے جیسے نہ رہیں—بلکہ ایک بہتر مسلمان، بہتر انسان اور بہتر شہری بن چکے ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی قدر کرنے، اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
