سری نگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے 2021 سے 2025 تک 249 افراد کو دوران حراست اور اور جعلی مقابلوں میں شہید کیا ہے ۔یہ اعداد وشمار بھارتی حکومت کی طرف سے فراہم کر دہ اعداد و شمار کے بالکل برعکس ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ جموںوکشمیر میں اپریل 2021سے اب تک صرف آٹھ افراد دوران حراست مارے جاچکے ہیں۔
بھارتی وزیر مملکت برائے امور داخلہ، نتیا نند رائے نے 24 مارچ 2026 کو پارلیمنٹ کے ایوان زیرین لوک سبھا کو مطلع کیا کہ جموں و کشمیر میں اپریل 2021 سے اب تک صرف آٹھ حراستی اموات کی اطلاع ملی ہے۔
وزیر کا کہنا تھا کہ بھارت کے نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) کے اعداد و شمار 2021-22، 2022-23، 2023-24، اور 2024-25 میں ہر سال دو حراستی اموات کو ظاہر کرتے ہیں، 15 مارچ 2025 تک کسی حراستی موت کی اطلاع نہیں دی گئی۔
تاہم ”کے ایم ایس“ کی رپورٹ ان اعداد و شمار سے یکسر مختلف ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ” این ایچ آر سی “مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارتی فورسز کے تشدد کی کارروائیوں کو چھپا رہا ہے۔کشمیر میڈیاسروس کی رپورٹ میں کہا گیا کہ2021میں 65،2022میں 59، 2023میں 41،2024میں50،2025میں34کشمیریوںکو دوران حراست اور جعلی مقابلوںمیں شہید کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار واضح پتہ دیتے ہیںکہ بھارت کشمیریوں کو آزادی کے مطالبے کی پاداش میں کس قدر بے رحمی سے نشانہ بنارہا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خواتین سمیت 5ہزار سے زائد کشمیری اس وقت مقبوضہ جموں وکشمیراور بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ ان میں سے تقریباً 32سو کو آزادی پسند سرگرمیوں سے متعلق الزامات کا سامنا ہے۔ بیشتر کشمیری ”پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) اور یواے پی اے“ جیسے کالے قوانین کے تحت بند ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز اہلکاروں کو کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز زیکٹ کے تحت بے لگام اختیارات حاصل ہیں اور انہیں مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر کسی قسم کی جوابدہی کے عمل سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔