سرینگر : تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل نہ کیاگیا تو جنوبی ایشیا میں جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں کیونکہ بی جے پی حکومت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو ایک خوبصورت جیل میں تبدیل کردیا ہے۔
اگست 2019 میں علاقے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے ریاستی جبر میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ خطے میںہزاروں اضافی بھارتی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے جیکہ یہ دنیا کے سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والے علاقوں میں سے ایک ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی اور ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم سمیت تین ہزار سے زائد حریت رہنما، کارکن، نوجوان، طلباءاور انسانی حقوق کے کارکن بھارت کی دور دراز جیلوں میں نظر بند ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کشمیری عوام کو منظم انداز میںبے اختیارکرنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں مقبوضہ علاقہ ادارہ جاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر کو اکثر دنیا کے سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والے علاقوں میں سے ایک قراردیتی ہیں۔ جس کی وجہ کئی دہائیوں سے جاری تنازعے کے باعث بھاری تعداد میںفوج کی موجودگی اور وسیع پیمانے پر پابندیاںہیں۔ اپنی قدرتی خوبصورتی کے باوجود وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں میں کالے قوانین کے نفاذ، من مانی نظر بندیوں، فوجی کیمپوں، پابندیوں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں ، گھروں پر چھاپوں اوربھاری تعداد میں بھارتی فوجیوں کی موجودگی کے باعث خطے کو اکثر”خوبصورت جیل“کہا جاتا ہے۔ مقامی رہائشی اسے ایک جہنم قراردیتے ہیں جہاں مسلسل خوف ، پابندیوں،ہراسانی اورسخت نگرانی میں زندگی گزارنی پڑتی ہے۔
دریں اثناءکل جماعتی حریت کانفرنس نے ایک بیان میں علاقے سے بھارتی افواج کے فوری انخلاءکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے سے جاری تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ بیان میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر کا سیاسی مستقبل دو قومی نظریہ کے تحت پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا تھا، لیکن بھارت نے خطے پر جبری قبضہ کر لیا، اس کی آبادی کی ساخت تبدیل کر دی اور یہاں کے لوگوں کو محاصرے میں رکھا۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ بھارت نے 10 لاکھ سے زائد فوجیوں کو تعینات کرکے کشمیر کو ایک وسیع جیل میں تبدیل کردیا ہے اور اپنی افواج کو شہریوں کے خلاف کارروائیوں میں کھلی چھوٹ دے دی۔ بیان میں کہاگیا کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت اور اس کی افواج مقبوضہ علاقے میں انسانیت کو پامال کر رہی ہیںاور1947 سے اب تک چار لاکھ سے زائد کشمیریوں کا قتل، ڈیڑھ لاکھ سے زائد عمارتوں کی تباہی اور کشمیری خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات بھارتی جبر کی حد کو ظاہر کرتے ہیں۔ حریت کانفرنس نے کہا کہ غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کرنے، زمینیں الاٹ کرنے اور کشمیر دشمن قوانین کو نافذ کرنے سے آر ایس ایس اور بی جے پی کی قیادت کے عزائم عیاں ہو گئے ہیں جن کا مقصد خطے کی شناخت، ثقافت اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔حریت کانفرنس نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کو کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔