سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما آغا سید حسن موسوی الصفوی نے ایران پر جاری جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں بچوں سمیت شہریوں کو نشانہ بنایاجا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب بات چیت جاری تھی ایک آزاد اور خود مختار ملک پر حملہ یہ بین الاقوامی اصولوں اور بنیادی انسانی اخلاقیات کی صریح توہین ہے۔ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے ایک بیان میں کہا کہ سکولوں ،نہتے شہریوں پر حملہ اور بچوں کو قتل کرنا محض قابل مذمت نہیں ہے ، یہ جنیوا کنونشنز اور جنگ کے ہر اصول کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔انہوں نے اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے ایرانی رہنما سید علی لاریجانی کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی انصاف، مزاحمت اور مظلوموں کی وکالت کی مجسم تھی۔ آغا سید حسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسیاں جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانے کی ہیں ۔انہوں نے مسلم اقوام پر زور دیا کہ وہ سیاسی، اخلاقی اور روحانی طور پر متحد ہو جائیں اور شہریوں کے دفاع، جنگ کی اخلاقیات کو برقرار رکھنے اور ایک متحد محاذ کے ساتھ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ساتھ کھڑی ہوں ۔
دریں اثنا مقبوضہ جموںوکشمیر کے مفتی اعظم ناصر الاسلام نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی قیادت میں جاری جنگ پر کڑی تنقید کی اور اسے ایک سنگین ناانصافی قرار دیا۔ انہوں نے عیدالفطر سے قبل جاری ایک خصوصی پیغام میں اسرائیل ، امریکہ کی طرف سے چھیڑی گئی جنگ کو انتہائی پریشان کن قرار دیا اور کہا کہ ماہ مقدس میں طلبا اور غیر مسلح شہریوں سمیت معصوم جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ مفتی اعظم نے امریکہ کے کردار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کہ صدر ٹرمپ کی حمایت نے خطے میں عدم استحکام اور طویل ناانصافی میں حصہ ڈالا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہے اور اس کے بجائے اسے انصاف اور انسانی وقار کے وسیع تر سوال کے طور پر دیکھا جانا چاہئے۔
مفتی ناصر اسلام نے مسلم کمیونٹی کو عید کی مبارکباد دیتے ہوئے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ عید سادگی اور دردمندی سے منائیں ۔