جنیوا : کشمیری نمائندے الطاف حسین وانی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک کھلی جیل قراردیتے ہوئے علاقے میں فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ غیرملکی قبضہ منظم نسل کشی اورقتل عام کا باعث بن رہاہے۔
الطاف حسین وانی نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) کے 61 ویں اجلاس کے موقع پر ورلڈ مسلم کانگریس کی جانب سے اظہار خیال کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کو اجاگرکیاجہاں بنیادی آزادیوں کو مکمل طور پرسلب کیاگیاہے۔انہوں نے کالے قوانین کے تحت اظہار رائے کی آزادی اور پرامن اجتماع پر پابندیوں ،ڈیجیٹل رکاوٹوںاور سوشل میڈیا کی وسیع نگرانی کا حوالہ دیا جن سے اختلاف رائے کو جرم بنادیاگیا ہے اورایک پوری آبادی کو دنیا سے الگ تھلگ کردیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ انسانی حقوق کے کارکنوں کو مسلسل ہراساں کیاجارہا ہے جنہیں بلا جوازگرفتایوں اور ماورائے عدالت تشدد کا سامنا ہے جبکہ ہزاروں سیاسی قیدی بغیر مقدموں کے سالہاسال سے جیلوں میں نظر بند ہیں۔ورلڈ مسلم کانگریس نے خطے میں بھارت کے جنگی جرائم پر تشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہجعلی مقابلوں میں شہید کئے جانے والے افراد کے اہلخانہ کو آخری رسومات اداکرنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے اورثبوتوں کومٹانے کے لئے میتوں کو اجتماعی قبروں میں دفن کیاجاتا ہے۔الطاف وانی نے فوری بین الاقوامی مداخلت، عالمی اداروں کی علاقے تک رسائی اور انسانیت کے خلاف جرائم پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔