بھارت میں تیجس طیاروں کے حادثات ،”میڈ اِن انڈیا“ دفاعی منصوبہ ناکام

 

نئی دہلی: بھارت میں تیار شدہ جنگی طیارے تیجس نے نام نہاد ”میڈ ان انڈیا “منصوبے کی ناکامی اور ملک کی ناقص دفاعی صلاحیت کی قلعی کھول دی ہے۔
طیاروں کی تباہی کے ساتھ ہی جنگی جنون میں مبتلا نریندرمودی کے وشوا گرو بننے کے مکروہ عزائم زمین بوس ہو گئے۔ بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جنگی طیاروں کی تباہی کے بڑھتے ہوئے واقعات ایک بڑی فوجی طاقت بننے کا بھارت کاخواب چکنا چور کر رہے ہیں۔ 7 فروری 2026 کو تیجس کے تیسرے حادثے کے بعد بھارتی فضائیہ نے 30 تیجس طیاروں کی پوری فلیٹ کو خاموشی سے گراو نڈ کر دیا۔ بی بی سی کے مطابق تیجس پروگرام 1981 میں شروع ہوا تھا جبکہ پہلی ٹیسٹ فلائٹ 2001 میں ہوئی مگر پھر بھی بھارت اپنا انجن تیار نہیں کر سکا، تیجس طیاروں کے انجن، ایویونکس، ریڈار سسٹمز اور ہتھیار امریکہ اور اسرائیل سے درآمد کیے گئے، کسی طیارے کی پوری فلیٹ کو گراونڈ کرنا سنگین تکنیکی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ بی بی سی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے پاس ففتھ جنریشن طیارہ موجود نہیں اور روس کے 57 SU-میں دلچسپی کے باوجود امریکی ناراضگی کا خدشہ ہے۔6 مارچ کو روسی ساختہ 30MKI SU-جنگی طیارہ بھی جورہٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوچکا ہے۔عسکری تقاضوں کے مطابق بھارتی فضائیہ کو کم از کم 42 اسکواڈرن درکار ہیں مگر تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے، تیجس کی گراو¿نڈنگ، اسکواڈرن کی کمی اور آپریشنل مسائل بھارت کی فضائی طاقت کی ساختی کمزوریوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق تیجس سمیت جنگی طیاروں کے مسلسل حادثات بھارتی فضائیہ کی تکنیکی اور آپریشنل کمزوریوں کو نمایاں کر رہے ہیں۔ تیجس کے حادثات کسی ایک پائلٹ کی غلطی نہیں بلکہ بھارت کے دفاعی صنعتی نظام اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامی کی علامت ہے۔بھارتی فضائیہ اپنی مطلوبہ صلاحیت حاصل کرنے سے ابھی دہائیوں دور ہے۔

جدید تر اس سے پرانی