امریکی کمیشن کی’ آر ایس ایس‘ اور’ را‘ پر پابندی اوربھارت کو ’خصوصی تشویش والا ملک‘ قرار دینے کی سفارش

 

واشنگٹن : بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن نے مذہبی آزادی کی منظم اور سنگین خلاف ورزیوں پر ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالسز ونگ (را) کے خلاف ٹارگٹڈپابندیوں اوربھارت کو خصوصی تشویش والا ملک قراردینے کی سفارش کی ہے۔
یہ سفارشات بھارت میں 2025 کے دوران مذہبی آزادی کی صورتحال کا کا جائزہ لینے کے بعد یو ایس سی آئی آر ایف کی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں کی گئیں۔ کمیشن نے ملک میں امتیازی قوانین کے نفاذ، اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے ہجومی تشدد اور مجرموں کے لیے وسیع پیمانے پر استثنیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ صورتحال مسلسل بد ترہوتی جارہی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد بھارتی ریاستوں نے انسداد تبدیلی مذہب کے قوانین کو مضبوط کیا، کچھ قوانین میں تبدیلی مذہب پر عمر قید کی سزا تجویز کی گئی جبکہ دیگر نے بنیادی حقوق کو مجروح کرتے ہوئے تبدیلی مذہب کے لیے پیشگی اطلاع کی دفعات متعارف کروائیں۔رپورٹ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کو اجاگرکیاگیاجن میں مختلف ریاستوں میں ہجومی تشدد اور فسادات کے ساتھ ساتھ تارکین وطن اور اقلیتوںکو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔رپورٹ میں کہاگیا کہ حکام نے روہنگیا پناہ گزینوں کو گرفتارکیا اور انہیں زبردستی بین الاقوامی پانیوں میں چھوڑدیا، جبکہ آسام میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کو ”درانداز“قراردیکر بے دخل کر دیا گیا۔ امریکی کمیشن نے مذہبی اداروں پر ریاستی کنٹرول کومزید سخت کرنے پر تشویش کا اظہار کیا جس میںمسلم اوقاف اور دیگر مذاہب کے تعلیمی اداروں کو متاثر کرنے والی قانون سازی شامل ہے۔ کمیشن نے سفارش کی کہ امریکی حکومت ”آر ایس ایس“ اور ”را “جیسے اداروں کے اثاثے منجمدکرے اوران پر ویزا پابندیاں عائد کرے اور دو طرفہ تعلقات کو مذہبی آزادی میں بہتری سے منسلک کرے۔کمیشن نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ بھارتی حکومتپر دباو ڈالے کہ وہ ملک میں مذہبی آزادی کی صورتحال کے آزادانہ جائزے کی اجازت دے۔ کمیشن نے بھارت کوخصوصی تشویش والا ملک قراردینے کی اپنی پرانی سفارش کا بھی اعادہ کیا۔

جدید تر اس سے پرانی