مودی حکومت کا مقبوضہ جموں وکشمیرمیں سینکڑوں نابالغ لڑکیوں کی گمشدگی کا اعتراف

 

نئی دہلی : مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران سینکڑوں نابالغ لڑکیاں لاپتہ ہو چکی ہیں جس سے علاقے میں تحفظ اور جوابدہی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
بھارتی وزیر مملکت برائے داخلہ نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا سے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف 2023 میں خطے میں 18 سال سے کم عمر کی 509 لڑکیاں لاپتہ ہوئیں جن میں سے صرف 209 کا سراغ لگایا جا سکا ہے جبکہ 300 کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔اعداد و شمار ایک پریشان کن اور مسلسل رجحان کو ظاہر کرتے ہیں جن کے مطابق 2022 میںاس طرح کے 502، 2021 میں 443، 2020 میں 350 اور 2019 میں 355 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جو مقبوضہ علاقے میں نوجوان لڑکیوں کو درپیش مسلسل خطرات کو اجاگر کرتے ہیں۔بھارتی حکومت کی جانب سے” ٹریک چائلڈ“ اور” کھویا-پایا“ پلیٹ فارمز جیسے مختلف میکانزم کو نافذ کرنے اور انہیں کرائم اینڈ کریمنل ٹریکنگ نیٹ ورک سسٹم (سی سی ٹی این ایس) کے ساتھ جوڑنے کے دعووں کے باوجود بہت سے کیسزحل نہیں ہوئے جس سے نظام میں سنگین خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تشویشناک اعداد و شمار نہ صرف انتظامی ناکامی کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں عدم تحفظ اور خوف کی موجودہ فضا کو بھی ظاہر کرتے ہیں جہاں اہلخانہ اپنے لاپتہ بچوں کے حوالے سے انصاف کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلسل گمشدگیاں اوربازیابی کا غیر موثر نظام نارملسی کے بھارتی بیانیے سے متصادم ہے۔کشمیری عوام نے ان واقعات کی آزادانہ تحقیقات اور وسیع تر بین الاقوامی جانچ پڑتال کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ علاقے میں لاپتہ بچوں کا معاملہ اسمگلنگ اور استحصال کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔اس انکشاف سے ایک بارپھر مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے ۔ مبصرین نے لاپتہ لڑکیوں کا سراغ لگانے اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور شفاف کارروائی پر زور دیا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی