بھارت پانی کو پاکستان کے خلاف ایک جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کررہاہے : ماہرین

 

اسلام آباد : آج جب عالمی یوم آب منایاجارہا ہے، ماہرین اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ بھارت پانی کو پاکستان کے خلاف ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے جس سے علاقائی امن و استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت بھارتی حکومت ایک وسیع تر سٹریٹجک حکمت عملی کے تحت پاکستان میں پانی کی قلت اور انتشار پیدا کرنے کے لیے جان بوجھ کر آبی وسائل کا استحصال کر رہی ہے۔ان کا کہناہے کہ بھارت سرحد پار پانی کے بہاو  کو کنٹرول کرکے خاص طور پر سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے اقدامات کے ذریعے علاقائی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ معاہدے کے فریم ورک کو متاثر کرنے والے حالیہ یکطرفہ اقدامات پانی کو سیاسی اور اسٹریٹجک ہتھیارکے طور پر استعمال کرنے کی عکاسی کرتے ہیں۔ماہرین نے خبردار کیا کہ بھارت دریاو ں کا رخ موڑ رہا ہے اور خاص طور پر مون سون کے دوران پاکستان کی طرف ضرورت سے زیادہ پانی چھوڑرہا ہے جس سے سیلاب اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے، جبکہ دیگر اوقات میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کرنے کے لیے پانی کے بہاو  کو محدود کیا جاتا ہے۔ان کا کہناہے کہ ایسی کارروائیوں کا مقصد اناج پیدا کرنے والی زرخیز زمینوں کو بنجر میں تبدیل کرکے پاکستان کی زراعت کو تباہ کرنا ہے جس سے غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔تجزیہ کاروں نے کہاکہ پانی کو بطورہتھیار استعمال کرنا خاص طور پر قدرتی آفات کے دوران بین الاقوامی اصولوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے اس کے تباہ کن نتائج سے خبردارکرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے اقدامات علاقائی استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں اور اگر ان کونہ روکا گیا تو یہ انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں۔ماہرین نے بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں پر زور دیا کہ وہ صورتحال کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور بھارت پر دباو¿ ڈالیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے اورخاص طور پر سیلاب اور خشک سالی جیسے نازک اوقات میں پانی کے وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائے۔

جدید تر اس سے پرانی