حل طلب تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کی ساکھ پر ایک بڑاسوالیہ نشان ہے ، بین الاقوامی ماہرین

 

جنیوا:بین الاقوامی قانونی ماہرین نے حل طلب دیرینہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی ساکھ اور سالمیت پر ایک بڑا سوالیہ نشان قرار دیتے ہوئے کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پرفوری عمل درآمد پر زور دیا ہے۔
ان خیالات کاا ظہار جنیوا میں منعقدہ ایک سیمینار کے مقررین نے کیا ۔ ممتاز قانون دان اور سکالرز سمیت مقررین نے کشمیر سے متعلق اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد میں اقوام متحدہ کی ناکامی پر افسوس کا اظہار کیا ، جس کے باعث یہ تنازع سات دہائیوں سے زائد عرصے سے حل طلب ہے۔سیمینار کی صدارت ورلڈ مسلم کانگریس کے نمائندے الطاف حسین وانی نے کی اور اس میں ایمیلی ڈی ہاسوسن، رابرٹ فٹینا، رونالڈ بارنس، ڈاکٹر سجاد لطیف اور نائلہ الطاف سمیت ایک معزز پینل شامل تھا۔ مقررین نے تنازعہ کشمیر سے متعلق1948اور 1971کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے منظور کی گئی 17قراردادوں کی حیثیت کا جائزہ لیا، جس میں قرارداد 47بھی شامل ہے، جس میں جموں و کشمیر میں استصواب رائے کا مطالبہ کیا گیا ہے لیکن آج تک ان قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔

جدید تر اس سے پرانی