تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کا کردارلازوال اور ناقابلِ فراموش ہے

 

اسلام آباد : کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں وکشمیر شاخ نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پرکشمیری خواتین کی ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر میں خواتین کا کردارلازوال اور ناقابلِ فراموش ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزادکشمیر شاخ کے سیکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے ایک بیان میں کہا کہ جدوجہدآزادی میں کشمیری خواتین کے جرات مندانہ اور بے مثال کردار پر انہیں بدترین بھارتی مظالم کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے تحریکِ آزادی کے لیے عظیم قربانیاں پیش کرنے والی کشمیری خواتین کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسزنے خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی طویل فہرست میں کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری سے لے کر شوپیان اور جموں میں دوہرے قتل و عصمت دری جیسے دلخراش واقعات شامل ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خواتین کو نہ صرف جنسی استحصال بلکہ جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی تشدد کا بھی مسلسل سامنا ہے۔ بھارتی افواج نے 1989 سے اب تک ہزاروں کشمیریوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کیا یا جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا جس کے نتیجے میں ہزاروں خواتین ایسی ہیں جو آج تک اپنے شوہروں کے بارے میں لاعلم ہیں کہ وہ زندہ ہیں یا شہید کر دیے گئے۔ یہ خواتین انسانی المیے کی ایک منفرد اور دردناک علامت بن چکی ہیں اورنیم بیوہ کی حیثیت سے کربناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مشتاق احمد بٹ نے کہا کہ کشمیری خواتین اور بچیوں کو خوف و ہراس کا شکار بنانے کے لیے بھارتی فورسز نے پیلٹ گنز کا اندھا دھند استعمال کیا جس کے نتیجے میں حبہ نثار اور انشا مشتاق سمیت سینکڑوں معصوم بچیاں اور خواتین اپنی بینائی سے محروم ہو چکی ہیں۔ یہ واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مقبوضہ علاقے میں انسانی وقار اور بنیادی حقوق کی کوئی قدر باقی نہیں رہی۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ کشمیری خواتین رہنماو¿ں کو محض اپنے پیدائشی حق، یعنی حقِ خودارادیت کے مطالبے کی پاداش میں جیلوں میں نظربند کیاگیا ہے۔ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت درجنوں کشمیری خواتین آج بھی تہاڑ جیل اور مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں نظربند ہیں، جہاں وہ مختلف عارضوں میں مبتلا ہونے کے باوجود بنیادی طبی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ حریت رہنمانے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین کے خلاف جاری تشدد کا فوری نوٹس لیں اور جیلوں میں نظربندکشمیری خواتین کی رہائی کے لیے بھارت پر دباو ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی خاموشی انسانی حقوق کے عالمی اصولوں اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری خواتین کے دکھوں کا مداوا صرف اسی صورت ممکن ہے جب انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ خودکرنے کا حق دیا جائے گا۔

جدید تر اس سے پرانی