بھارت کو سفارتی اور دفاعی ناکامیوں کے بعد تجارتی میدان میں بھی ذلت آمیز شکست کا سامنا

 

نئی دہلی: فسطائی مودی کے دور حکومت میں بھارت کو سفارتی اور دفاعی ناکامیوں کے بعد تجارتی میدان میں بھی ذلت آمیز شکست کا سامنا ہے۔
خودمختاری اور گلوبل ساﺅتھ کی قیادت کا نام نہاد دعویدار بھارت معاشی ترجیحات پس پشت ڈال کر بڑی طاقتوں کے دباو کے سامنے ڈھیر ہوگیاہے۔ بھارتی جریدے ”دی وائر“ نے مودی حکومت کے ڈبلیو ٹی او کانفرنس سے خالی ہاتھ لوٹنے کو بھارت کی ناکامیوں سے تعبیر کیاہے۔جریدے نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کانفرنس میں گھٹنے ٹیکنے پر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت نے ڈیجیٹل مواد کی ترسیل پر کسٹم ڈیوٹی نہ لگانے کی امریکی شرط قبول کرنے کا واضح اشارہ دیاہے۔دی وائر کے مطابق ڈبلیو ٹی او کانفرنس میں بھارت نے سرمایہ کاری سہولت معاہدہ کسی مزاحمت کے بغیر ہی قبول کر لیا۔ بھارت نے اپنے کسانوں سے غداری اور امریکہ کی وفاداری کرتے ہوئے خوراک کی عوامی ذخیرہ اندوزی پر بھی شکست قبول کی۔ خلیجی جنگ کے تناظر میں بھی مودی کو ملکی مفادات اسرائیل سے دوستی کی بھینٹ چڑھانے پر تنقید کا سامنا ہے۔ماہرین کے مطابق مودی کی نااہلی کے باعث بھارتی معیشت کو توانائی بحران، کرنسی پر دباو¿ اور ترسیلاتِ زر میں کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ بھارت کا اقتصادی قوت بننے کا مضحکہ خیز خواب نااہل مودی کی ناکام اور تباہ کن پالیسیوں کے باعث خاک میں مل چکا ہے۔

جدید تر اس سے پرانی