مودی میں اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرنے اور نیتن یاہو سے سچ بولنے کی ہمت نہیں :کانگریس

 

نئی دہلی: بھارت میںکانگریس نے کہاہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی میں مغربی کنارے پر اسرائیل کے قبضے کی مخالفت کرنے اور اپنے دوست بنجمن نیتن یاہو سے سچ بولنے کی ہمت نہیں ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل مغربی ایشیا میں جنگ کو اپنے”گریٹر اسرائیل“کے وژن کو آگے بڑھانے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ چار ہفتوں کے دوران جب دنیا کی توجہ آبنائے ہرمز اور خلیج میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر مرکوز ہے، اسرائیل نے غزہ کے لوگوں کے خلاف اپنی بربریت جاری رکھی ہے، جنوبی لبنان میں اپنے لیے ایک بڑا بفر زون بنانے کی مہم شروع کی ہے اور مغربی کنارے پر اپنے قبضے کو ایک مستقل الحاق میں تبدیل کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کی موجودہ جنگ اسرائیل کو اپنے عظیم تر اسرائیل کے وژن کو آگے بڑھانے کے لیے کور فراہم کر رہی ہے اور فلسطینی ریاست کے لیے کسی امید کو بھی ختم کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی کے اسرائیل سے بھارت روانہ ہونے کے صرف دو دن بعد ہی ایران پر امریکی اسرائیل بمباری شروع ہوگئی۔ یہ احساس نہیں ہے کہ ان کی آمد سے چند روز قبل اسرائیلی کابینہ نے 1967 کے بعد پہلی بار مقبوضہ مغربی کنارے کے تقریباً نصف حصے میں اراضی کی رجسٹریشن کی منظوری دی تھی۔ اس سے لاکھوں فلسطینیوں کو بے دخل کیا جائے گا۔جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم مودی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ اپنے اچھے دوست بینجمن نیتن یاہو کے سامنے اپنی آواز اٹھا سکیں اور سچ بولیں۔

جدید تر اس سے پرانی