بھارت :الہ آباد ہائی کورٹ نے گھروں میں باجماعت نمازپڑھنے پر پابندی پر سوالات اٹھائے

 

لکھنو:بھارتی ریاست اترپردیش میں الہ آباد ہائی کورٹ نے نجی گھروں میں باجماعت نماز پڑھنے پر پابندی کے خلاف دائر ایک درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اہم آئینی نکات اٹھائے ہیں۔ عدالت نے سوال کیاکہ کیا ہندووں کے گھروں میں بھی پوجا کرنے پر ایسی ہی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔
عدالت نے کہا کہ یہ مسئلہ آئین کے تحت بنیادی حقوق بالخصوص مذہب کی آزادی اور رازداری کے حق سے متعلق ہے۔ عدالت نے یوپی حکومت سے پوچھاکہ نجی املاک پرمذہبی عبادات کو محدود کرنے کی کونسی قانونی بنیادہے ،خاص طور پر جب ایسے اجتماعات پرامن ہوں اور امن عامہ کو کوئی خطرہ نہ ہو۔یہ مقدمہ ان شکایات سے متعلق ہے کہ اتر پردیش کے بعض اضلاع میں حکام نے مسلمانوں کو نجی گھروں میں باجماعت نماز پڑھنے سے روکا ہے۔ درخواست گزاروں نے استدلال کیا کہ یہ کارروائیاں بلاجواز ہیں اور آزادی سے مذہب پر عمل کرنے کے ان کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں۔عدالت نے کہاکہ جہاں ریاست امن و امان کے لیے بڑے عوامی اجتماعات کو منظم کر سکتی ہے، نجی عبادت پر پابندیاں عائد کرنا سنگین قانونی اور اخلاقی خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ججوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر حکومت گھروں میں مذہبی عبادات کو ریگولیٹ کرنا شروع کر دے تو اسے ایک نئی مثال قائم ہوگی جس سے تمام کمیونٹیز متاثر ہونگی۔بنچ نے پوچھا کہ اگر ہندو بھجن یا اجتماعی پوجا کی دیگر اقسام کے لیے گھروں میں جمع ہو نگے تو کیا حکام اسی طرح مداخلت کریں گے۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے نجی اور عوامی مقامات پر مذہبی آزادی پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ عدالت نے ریاست سے تفصیلی موقف پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

جدید تر اس سے پرانی