بھارت یاسین ملک کو پھانسی دینے کے درپے ہے،مشعال ملک

 

اسلام آباد:
چیئر پرسن پیس اینڈ کلچرل آرگنائزیشن اور غیر قانونی طورپر نظربند کشمیری حریت رہنما محمد یاسین ملک کی اہلیہ مشعال حسین ملک نے کہا ہے کہ خطے میں پھیلنے والی بدامنی اور عدم استحکام کے ذمہ دار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور نیتن یاہو ہیں۔
مشعال ملک نے اسلام آباد میں سوشل میڈیا انفلیونسرز اور صحافیوں کے وفد سے ایک ملاقات میںکہاکہ مودی اور نیتن یاہو دونوں خطے میں کشیدگی بڑھانے کے علاوہ قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یاسین ملک نے جموں وکشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کا علم اٹھارکھا ۔ اور کشمیری عوام اپنی جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔بھارت آج یاسین ملک کی عمر قید کی سزاکو سزائے موت میں بدلنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہاکہ یاسین ملک کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد کی علامت ہیں اور مودی کی بھارتی حکومت انہیں پھانسی دینے کے درپے ہے ۔ بطور مسلمان ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ مایوسی کفر ہے۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ نیتن یاہو فلسطینیوں اور نریندر مودی کشمیریوں کے قاتل ہیں۔ انہوں نے دونوں کو دور حاضر کے یزیدقرار دیتے ہوئے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مظلوم اقوام کا ساتھ دیں اور کشمیریوں اور فلسطینیوں کے خلاف مظالم پر آواز بلند کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے بعد صیہونی ریاست نے تہران پر حملہ کر کے ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کوشہید کیا۔ایرانی سپریم لیڈر کشمیری عوام کے ہمدرد تھے اور وہ کشمیر کے مسئلے پر ہمیشہ آواز اٹھاتے رہے۔مشعال حسین ملک نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے بورڈ آف پیس کی طرز پر دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے بھی بورڈ آف پیس قائم کیا جاناچاہیے تاکہ بھارتی جیلوں میں قید کشمیری قیادت جن میں یاسین ملک، شبیرشاہ اور آسیہ اندرابی سمیت دیگر قائدین شامل ہیں کی رہائی ممکن ہو سکے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل نکالا جا سکے۔

جدید تر اس سے پرانی