بھارت مقبوضہ کشمیر میں جمہوری اور انسانی قدروں کی دھجیاں اڑا رہا ہے، حریت کانفرنس

 

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے معاشی اور مذہبی حقوق سمیت تمام بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں اور وہ انکے وسائل کو بے دریغ لوٹ رہی ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیاہے کہ دنیاکا سب سے بڑا نا م نہاد جمہوری ملک مقبوضہ علاقے میں جمہوری اور انسانی قدروں کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوںکو تمام بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیاہے اور انکے گھروں ، زمینوں پر قبضہ کر کے انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی ٰبنایا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت قتل و غارت ، بلا جواز گرفتاریوں ، جائیدادوں کی ضبطی ، ملازمین کی برطرفی اور جبر واستبداد کے دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے جموں وکشمیر پر اپنا جبری تسلط برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ استعماری ہتھکنڈوں سے لوگوں کی جائز امنگوں کو ہرگز دبایانہیں جاسکتا لہذا بھارت کو طاقت ، گھمنڈ و غرور کی پالیسی ترک کر کے تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی طرف سے آنا چاہیے۔انہوںنے کہا کہ تنازعہ کشمیر ایک حقیقت ہے اور بھارت اٹوٹ انگ کی رٹ سے اس حقیقت کو ہرگز تبدیل نہیں کرسکتا ۔ ترجمان نے واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیرکو اقوام متحدہ کی پاس کر دہ قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاسکتا ، کشمیری مسائل ومشکلات سے دوچار رہیں گے اورخطہ بدستور غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہے گا۔ترجمان نے کہا کہ حریت کانفرنس مسئلہ کشمیر پر ایک اصولی موقف رکھتی ہے اور وہ اس مسئلے کے پرامن حل کی جدوجہد مقصد کے حصول تک جاری رکھے گی۔انہوںنے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری بھارتی جبر کا نوٹس لے اورکشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق خودارادیت دلانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
دریں اثناءانٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس جموں و کشمیر کے چیئرمین محمد احسن انتو نے کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی فورسز کے ذریعے گھر گھر تلاشی کی کارروائیوں کے دوران چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کر رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز اسرائیلی طرز پرمقبوضہ جموں وکشمیر میں ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہیں ۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں پر زوردیا کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے بارہمولہ، گاندر بل، پٹن، بڈگام، بانڈی پورہ، سرینگر، اسلام آباد، شوپیاں اور پلوامہ سمیت مختلف مقامات پر تلاشی کارروائیوں کی شدید مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ایران پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف پرامن احتجاج کرنا چاہتے ہیں لیکن بھارتی حکام انہیں اس حق سے بھی محروم کر رہے ہیں۔احسن انتو نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھارت کے اصل چہرے کو بے نقاب کرے اور کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کو رکوانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔

جدید تر اس سے پرانی