کشمیریوں کی جدوجہد آزادی تحریک پاکستان کا تسلسل ہے: رپورٹ

 

اسلام آباد : 23 مارچ 1940 کو منظور ہونے والی قرارداد پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا اصل محرک ہے جو درحقیقت تحریک پاکستان کاہی تسلسل ہے۔تنازعہ کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے کیونکہ پاکستانی اور کشمیری مضبوط مذہبی، تاریخی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہاگیا کہ کشمیری وفدنے جس نے لاہور میں 23 مارچ 1940 کے عوامی اجتماع میں شرکت کی، جہاں قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی، اعلان کیا تھا کہ جموں و کشمیر کے لوگ خطے میں مستقبل کی مسلم ریاست کا حصہ ہوں گے۔پاکستان 14 اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا ۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جدوجہد تحریک پاکستان کا تسلسل ہے اور پاکستان جموں و کشمیر کے بغیر نامکمل ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیری پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو اپنا محافظ اورنجاعت دہندہ سمجھتے ہیں۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بجا طور پر کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔جدوجہدآزادی میں مصروف کشمیری 23 مارچ 1940 کی تاریخی قرارداد سے تحریک لیتے ہیں اور تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان ناگزیر ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے کے بغیر نامکمل ہیں اور مقبوضہ جموں وکشمیرمیں پاکستان کے حق میں لگنے والے نعرے دونوں کے درمیان یکجہتی کی عکاسی کرتے ہیں۔کشمیری پاکستان کے قومی دنوں پر پاکستان سے اپنے لگاو¿ اور محبت کے اظہار کے لیے پاکستانی پرچم لہراتے ہیں۔ مقبوضہ علاقے کے لوگ 1947 سے بھارتی بندوقوں کے سائے تلے پاکستان کے قومی دن مناتے رہے ہیں۔ کشمیر بنے گا پاکستان ہر کشمیری مسلمان کی آواز ہے۔رپورٹ میں کہاگیا کہ 5 اگست 2019 کو اور اس کے بعد بھارت کی بی جے پی حکومت کے اقدامات نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ برصغیر میں مسلمانوں کو ایک علیحدہ وطن کی ضرورت تھی۔ رپورٹ میں کہاگیاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر پاکستان کا حصہ بن کر رہے گا۔

جدید تر اس سے پرانی