مظفر آباد:حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنمائوں کی اہم پریس کانفرنس

 


مظفرآباد:کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے زیر اہتمام سینٹرل پریس کلب مظفرآباد میں اہم پریس کانفرنس منعقد ہوئی ۔
حریت کنوینئر غلام محمد صفی، سیکریٹری جنرل ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ، سینئر حریت رہنما محمود احمد ساگر، شیخ عبدالماجد، ذاہد اشرف، ذاہد صفی، مشتاق السلام، عبدالمجید میر، مہاجرین نمائندہ فورم کے مرکزی رہنما غلام حسن بٹ، وزیراعظم آزاد کشمیر کے ترجمان شوکت جاوید میر اور مسلم کانفرنس شعبہ خواتین کی چیئرپرسن سمعیہ ساجد نے شرکت کی۔ایڈووکیٹ پرویز احمد شاہ نے اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور حریت قیادت کے خلاف قائم جعلی مقدمات کی شدیدمذمت کی۔ انہوں نے بھارتی عدالتوں کے حالیہ متعصبانہ فیصلوں کو انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری خواتین رہنمائوں آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو دی جانے والی طویل سزائیں انصاف کا قتل ہیں ۔بھارتی عدالتیں جرم ثابت ہونے سے قبل ہی حریت رہنمائوں کو سزائیں سنادیتی ہیں ۔ غلام محمد صفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آسیہ اندرابی اور انکی ساتھیوں کاواحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف آواز بلند کی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی متنازع حیثیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور بھارت کی قیادت اپنے ہی وعدوں سے انحراف کر چکی ہے۔ کشمیری قیادت کو پابندِ سلاسل رکھ کر دنیا کے سامنے سچائی کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم ان ہتھکنڈوں کے ذریعے تحریک آزادی کشمیر کو کمزور نہیں کیاجا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ بغیر کسی ٹھوس شواہد کے سزائیں سنانا بھارتی عدالتی نظام پر ایک سیاہ دھبہ ہے اور یہ فیصلے ماضی کے متنازع عدالتی فیصلوں کی ایک کڑی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام اور پاکستانی قوم ان اسیرانِ حریت کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ہر عالمی فورم پر ان کی آواز بلند کی جائے گی۔سینئر رہنما محمود احمد ساگر ،شوکت جاوید میر،غلام حسن بٹ اور دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں کہاکہ کشمیری عوام کا واحد قصور اپنے بنیادی حق خودارادیت کا مطالبہ ہے۔ بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے ظلم و جبر، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے ذریعے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیاکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔ مقررین نے بھارتی عدالت کی جانب سے آسیہ اندرابی ، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو طویل قید کی سزائوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے جانبدارانہ، سیاسی انتقام اور انصاف کے تقاضوں کے سراسر منافی قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ ایسے فیصلے نہ صرف عدالتی نظام کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ بھارت کے جمہوری ملک ہونے دعوئوں کو بھی بے نقاب کرتے ہیں۔مقررین نے آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت تمام اسیرانِ حریت کی جرات، استقامت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور انہیں تحریک آزادی کا قیمتی سرمایہ قرار دیا۔ انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں اوراور تمام سیاسی قیدیوں کی رہا ئی اور کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دلوانے کیلئے بھارت پر دبائو ڈالیں ۔
جدید تر اس سے پرانی