یہ صرف ایک رپورٹ نہیں… یہ ایک چیخ ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں… یہ انسانیت کے چہرے پر طمانچہ ہے۔
اور یہ صرف بھارت کا مسئلہ نہیں… یہ پوری امتِ مسلمہ کے ضمیر کا امتحان ہے۔
Genocide Watch کی حالیہ رپورٹ نے ایک ہولناک حقیقت کو بے نقاب کیا ہے کہ بھارت نسل کشی کے دس مراحل میں سے سات خطرناک مراحل عبور کر چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں نسل کشی کے مراحل اس حد تک پہنچ جائیں تو پھر المیہ دروازے پر دستک نہیں دیتا… بلکہ دروازہ توڑ کر داخل ہوتا ہے۔
یہ وہی مراحل ہیں جو کبھی Holocaust سے پہلے یورپ میں دیکھے گئے، یہی نشانیاں Rwandan Genocide سے قبل افریقہ میں ظاہر ہوئیں۔ اور آج… یہی سائے بھارت میں مسلمانوں پر منڈلا رہے ہیں۔
نفرت کا منظم نظام
جب Narendra Modi اقتدار میں آئے تو بہت سے لوگوں نے اسے جمہوریت کی فتح کہا، مگر وقت نے ثابت کیا کہ یہ ایک نظریاتی یلغار کا آغاز تھا۔
ہندوتوا کی سوچ نے ریاستی پالیسیوں کا روپ دھار لیا، اور مسلمان — جو کبھی اس سرزمین کی پہچان تھے — آج اپنے ہی وطن میں اجنبی بنا دیے گئے۔
نفرت انگیز تقاریر، مسلم مخالف ریلیاں، اور کھلے عام قتل کے نعرے… یہ سب اب معمول بن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے:
کیا یہ سب اچانک ہو رہا ہے؟
نہیں! یہ ایک منصوبہ بند حکمتِ عملی ہے۔
امتیاز سے انکار تک، انکار سے مٹانے تک
نسل کشی کے مراحل ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں:
پہلے شناخت، پھر تفریق، پھر نفرت، پھر تشدد… اور آخرکار صفایا۔
آج بھارت میں یہی کچھ ہو رہا ہے:
مسلمانوں کی نمائندگی سول سروس میں صرف 3 فیصد
پولیس میں صرف 4 فیصد
جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد 19 فیصد
یہ محض اعداد نہیں… یہ ایک ریاستی تعصب کی تصویر ہے۔
آسام: شہریت چھیننے کا المیہ
Assam میں لاکھوں مسلمانوں کی شہریت خطرے میں ہے۔
70 لاکھ سے زائد افراد کو بے وطن بنانے کی تیاری مکمل ہے۔
حراستی مراکز تعمیر ہو رہے ہیں… خاندان بکھر رہے ہیں… اور انسانیت دم توڑ رہی ہے۔
کیا دنیا نہیں جانتی کہ
شہریت چھیننا نسل کشی کا پہلا قدم ہوتا ہے؟
میڈیا، ریاست اور ہجوم — ایک خطرناک اتحاد
ہندوتوا رہنما کھلے عام ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں،
سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے قتل کے لیے ویڈیوز اور گانے پھیلائے جاتے ہیں،
اور جب حملے ہوتے ہیں تو…
گرفتار کون ہوتا ہے؟ مظلوم مسلمان!
یہ صرف ناانصافی نہیں،
یہ انصاف کے قتل کا اعلان ہے۔
امت مسلمہ! کب جاگو گے؟
اے مسلمانو!
کیا تم نے Gaza کے بچوں کی چیخیں نہیں سنیں؟
کیا Kashmir کی ماؤں کے آنسو تمہیں نہیں جگا سکے؟
اور اب بھارت کے مسلمان… تمہیں پکار رہے ہیں۔
یہ وقت خاموشی کا نہیں…
یہ وقت اتحاد، شعور اور اقدام کا ہے۔
ہماری ذمہ داری
ہمیں کیا کرنا ہوگا؟
ظلم کو ظلم کہنا ہوگا — بغیر مصلحت کے
عالمی سطح پر آواز اٹھانی ہوگی
میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز پر سچ پھیلانا ہوگا
اپنے حکمرانوں کو جگانا ہوگا
اور سب سے بڑھ کر… اپنے ایمان کو زندہ کرنا ہوگا
آخری سوال
اگر آج ہم خاموش رہے…
تو کل تاریخ ہمیں کس نام سے یاد کرے گی؟
تماشائی؟
بزدل؟
یا شریکِ جرم؟
یہ کالم صرف الفاظ نہیں…
یہ ایک دعوتِ فکر ہے، ایک للکار ہے، ایک اذان ہے۔
اٹھو!
کیونکہ اگر آج ہم نہ جاگے…
تو کل شاید جاگنے کے لیے کچھ باقی نہ رہے۔
“اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے…” (النساء: 75)
اللہ ہمیں حق دیکھنے، سمجھنے اور اس کے لیے کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین