سرینگر
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے حریت رہنما آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کی طویل قیدسزاوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میرواعظ عمر فاروق نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک پوسٹ میں جھوٹے مقدمے میں خواتین حریت رہنمائوں کی طویل سزائوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ آسیہ اندرابی ،ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی طویل عرصے سے قید ہیں ۔انہوں نے تینوں خواتین رہنمائوں کے خلاف قائم جھوٹے مقدمات کا جائزہ "جمہوری اصولوں اور انسانی بنیادوں”کے مطابق لینے پر زوردیا۔میرواعظ نے خاص طور پر آسیہ اندرابی کی عمر اورگرتی ہوئی صحت پرسخت تشویش ظاہر کرتے ہوئے بھارتی حکام پر زور دیا کہ وہ انکی حالت زار کے پیش نظر "حساسیت اور ہمدردی” کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے انسانیت کی بنیاد پر آسیہ اندرابی اورانکی ساتھیوں کی رہائی کی اپیل کی ۔
واضح رہے کہ دلی کی خصوصی این آئی اے عدالت نے گزشتہ روز ایک جھوٹے مقدمے میں آسیہ اندرابی کو عمر قید جبکہ انکی ساتھیوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30-30سال قید کی سزا سنائی ہے ۔حریت رہنمائوں کو یہ سزائیں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت سنائی گئی ہیں ۔قانونی ماہرین نے طویل عرصے سے کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی کے الزامات سے جوڑنے پر بھارتی قابض انتظامیہ پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کے مطابق بھارتی حکومت اس طرح کے الزامات کو مقبوضہ کشمیرمیں اختلاف رائے کو دبانے کی ایک ہتھیار کے طورپر استعمال کر رہی ہے ۔